سپریم کورٹ نے کراچی میں پارک کی زمین پر بنی مساجد، مزار اور قبرستان گرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد اور قاضی محمد امین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مختلف کیسز پر سماعت کی۔

طارق روڈ پر پارک کی جگہ پر مسجد کی تعمیر سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مدینہ مسجد کی طرف سے کوئی آیا ہے، کیا مدینہ مسجد سے اوقاف کا کوئی تعلق ہے، جس پر سیکریٹری اوقاف نے نفی میں جواب دیا۔چیف جسٹس نے مرتضیٰ وہاب سے استفسار کیا کہ  آپ غیر قانونی مسجد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے جواب دیاکہ  عدالت حکم دے تو کارروائی کریں گے۔

چیف جسٹس نے مرتضیٰ وہاب سے استفسار کیا کہ  آپ غیر قانونی مسجد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے جواب دیاکہ  عدالت حکم دے تو کارروائی کریں گے۔سپریم کورٹ میں کڈنی ہل پارک کی بحالی کے کیس کی بھی سماعت ہوئی۔ شہری امبر علی بھائی نے بتایا کہ پارک کی زمین کے بالائی حصہ پر پھر الفتح مسجد کی تعمیر شروع ہوگئی ہے۔الفتح مسجد کے وکیل خواجہ شمس نے بتایا کہ زمین کے ایم سی سے نیلامی کے ذریعے حاصل کی گئی تھی، الفتح مسجد شہید کرکے نئی مسجد تعمیر کرائی جارہی ہے، اسسٹنٹ کمشنر اسما بتول نے فرقہ واریت کا رنگ دینے کیلئے مزار اور قبرستان آباد کرایا، راتوں رات بسم اللہ مسجد فرقہ واریت کیلئے بنوائی گئی ہے۔

جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیے کہ کوئی عبادت گاہ غیر قانونی زمین پر تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام غیر قانونی زمین پر مساجد کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتا، کے ایم سی کے پاس پارک کی زمین پر مسجد کا لائسنس دینے کا اختیار نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے الفتح مسجد انتظامیہ کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مسجد کیلئے مختص زمین کے ایم سی کو واپس کرنے اور کے ایم سی کی جانب سے دیا گیا لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں