لندن، اسلام آباد ( آن لائن )مسلم لیگ ( ن) کے قائد وسابق وزیراعظم نواز شریف نے مقتدر حلقوںسے ہونیوالی ملاقاتوںاور رابطوںبارے پارٹی کے سنئیررہنمائوں کوقیاس آرئیوںسے منع کر دیا ہے اورہدایت کی ہے کہ جب معاملات کسی نتیجے پرپہنچیں گے تو وہ پارٹی کو اعتماد میں لیں گے

۔نوازشریف نے منی بجٹ کی منظوری روکنے کی بھی ہدایت کردی جبکہ وزیراعظم ،چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بغیر ہوم ورک کے تحریک عدم اعتماد لانے سے بھی روک دیا ۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی اور مبینہ ڈیل کے معاملہ پر ن لیگ کے قائد میاں نوازشریف کی زیر صدارت ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں شہبازشریف،مریم نواز،شاہد خاقان عباسی ،ایاز صادق،سعد رفیق،پرویز رشید،احسن اقبال،رانا ثناء اللہ و دیگر سینیر رہنماؤں نے شرکت کی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نوازشریف نے حالیہ ملاقاتوں اور رابطوں بارے اعتماد میں لیا۔ نواز شریف نے ہدایت کی وطن واپسی اور ڈیل بارے پارٹی رہنما بیانات میں احتیاط برتیں، رابطوں اور ملاقاتوں کو ڈیل کا نام دینا افسوسناک ہے۔ نواز شریف نے کہا جلد وطن واپس آنا چاہتا ہوں ملک مسلسل بحرانوں کا شکار ہورہا ہے۔شریف فیملی کے خلاف کیسز کی موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی،چیئرمین سینیٹ اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک پر بھی بات چیت ہوئی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے بغیر مکمل ہوم ورک عدم اعتماد کی مخالفت کردی۔نواز شریف نے اپوزیشن لیڈر کو دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر منی بجٹ کی منظوری روکنے کی ہدایت کی

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں