آپ کو یاد ہوگا17 نومبر2021ء کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا تھا‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم این اے میاں جاوید لطیف ہال میںداخل ہوئے‘ سامنے تین وفاقی وزراء بابر اعوان‘ غلام سرور خان اور بریگیڈیئر(ریٹائر) اعجاز شاہ بیٹھے ہوئے تھے‘ اجلاس میں آدھ گھنٹہ باقی تھا‘ تینوں نے میاں جاوید لطیف کو پیش کش کی آپ اجلاس شروع ہونے تک ہمارے ساتھ بیٹھ جائیں‘ میاں صاحب بیٹھ گئے‘

گفتگو شروع ہوئی تو سیاست سے چلتی ہوئی معیشت تک پہنچ گئی‘ نارکوٹکس کنٹرول کے وفاقی وزیر بریگیڈیئر(ریٹائر) اعجاز شاہ نے بتایا میں آج صبح لاہور سے آ رہا تھا‘ میں نے اپنے بیٹے سے کہا ’’ننکانہ میں ہماری آبائی زمینیں ہیں‘ وہ تمہیں خاندان کے لوگ نہیں بیچنے دیں گے لیکن میں نے زندگی میں جو کچھ کمایا اور جو کچھ بنایا وہ تم بیچ دو اور کسی پرسکون ملک میں جا کر آباد ہو جائو‘ ملک کے حالات ٹھیک ہونے کا امکان نظر نہیں آ رہا‘‘ غلام سرور نے کھنگار کر انہیں روکا اور کہا ’’شاہ صاحب آپ یہ بات کس کے سامنے کر رہے ہیں‘ یہ سب کو بتا دے گا‘‘ اعجاز شاہ نے میاں جاوید لطیف کی طرف دیکھا‘ مسکرائے اور کہا’’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ جو سچ ہے وہ سچ ہے اور ہمیں اب یہ مان لینا چاہیے‘‘ مجھے یہ واقعہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا تھا‘ میں نے جمعہ 24 دسمبر کو میاں جاوید لطیف کو فون کیا اور ان سے واقعے کی تصدیق چاہی‘ میاں جاوید لطیف نے نہ صرف اس واقعے کی تصدیق کر دی بلکہ یہ بھی بتایا ’’اعجاز شاہ کا کہنا تھا میں نے جب فوج میں کمیشن لیا تھا تو ڈالر ساڑھے تین روپے میں ملتا تھا‘ میں خود اس قیمت پر ڈالر خریدتا تھا لیکن یہ اب 178 روپے کا ہو چکا ہے لہٰذا آپ خود بتائیں ملک اور معیشت کیسے چلے گی؟‘‘۔یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں‘ یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادراک اب حکومتی وزراء کو بھی ہو رہا ہے‘ یہ بھی اب جان چکے ہیں ہم ان حالات میں ملک نہیں چلا سکیں گے‘ اگر کسی کو غلط فہمی تھی تو وہ 20دسمبرکو کے پی میں بلدیاتی الیکشنز نے دور کر دی‘ پاکستان تحریک انصاف کا خیال تھا ’’صوبے کے عوام کالے چور کو ووٹ دے دیں گے لیکن مولانا پر اعتماد نہیں کریں گے‘‘ لیکن عوام نے مولانا کو ووٹ دے کر پورے ملک کی سیاست ہلا کر رکھ دی‘ یہ زلزلہ تھا لیکن اس زلزلے کے بعد وزیراعظم کے ردعمل نے پارٹی کو مزید پریشان کر دیا‘ وزیراعظم نے ٹینشن میں صوبائی تنظیمیں توڑ دیں اور ٹکٹوں سمیت بلدیاتی الیکشنز کے تمام امور اپنے ہاتھ میں لے لیے‘ پارٹی اس کے بعد سرجوڑکر سوچ رہی ہے ہم اگر اس بار بھی الیکشن ہار گئے

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں