میں سفرکےلئےٹرین میں چڑھا اورایک جگہ بیٹھ گیا وہاں پرکافی لوگ بیٹھےتھے۔ میں تسبیح نکال کر پڑھنے بیٹھ گیا۔ ایک صاحب جو رحیم یارخان کے وکیل تھے انہوں نے کہا صوفی صاحب کیا تسبیح پڑھ رہے ہو،میں خاموش رہا۔ ان کا چہرہ ان کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ فارغ بیٹھے ہیں اورمزاق کرنا چاہتے ہیں۔

مجھے پھرکہنے لگے کہ لگتا ہےعرش پر پہنچے ہوئے ہیں۔ میں پھر خاموش رہا کچھ نہ بولا میں جان بوجھ کر نہیں بول رہا تھا کہ زیادہ چھیڑے توکام چھیڑے۔ ساتھ ان کا کوئی شاگرد تھا اس نے بھی فقرہ کسا اس نے کہا لگتا ہے

پہنچی ہوئی سرکار ہے دوسرے نے کہا نہیں اتنی بھی پہنچی ہوئی نہیں ہے ہم بھی آخروکیل ہے ہم سارا کچھ جانتے ہیں اچھا ٹھیک ہے کب تک خاموش رہتے ہیں۔ میں چپ کرکے تسبیح کرتا رہا پھروہ خاموش ہوگئے اورپھرآپس میں باتیں کرنے لگیں۔ انہوں نے مجھے وقفہ دیاجان بوجھ کر۔ میں خاموش بیٹھا پڑھتا رہا۔

پھر بولے کہ آپ بولے نہیں ہم نے اتنی دیر آپ کا انتظار کیا۔ میں نے کہا اب بولوں میں۔ میں نے کہا میں اصل میں ایک ایسا زکر کر رہا ہوں جس کے یہ فائدے ہیں،زکر نہیں بتایا۔ میں اصل میں تین تسبیحات مکمل کر رہا تھا اورتیسراکلمہ پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا ایک ایسا زکر کر رہاہوں جس کے یہ فائدے ہیں۔

میں نے کہا اس کا اگلہ فائدہ یہ ہے کہ جو الحمدللہ اس کو پڑھےگا اللہ تعالی ساری کائنات کو ساتوں آسمان،ساتوں زمینیں ان ساری چیزوں کوجمع کرے تو یہ رائی کے زرے کے برابرقیامت کے دن جوترازو پڑا ہوگا

جس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی اس ترازومیں اگر یہ زکر رکھ دیا جائے تو وہ ترازواتنابڑا ہوگاکہ یہ کائنات رائی کے دانےبرابر ہوگی میں وہ پڑھ رہا ہوں جس کو ایک دفع پڑھیں تو آدھا ترازو بھی جائے ایسے میں 100 دفعہ پڑھ رہا ہوں اور 100 دفعہ پڑھنے سے کیسے ترازوہوں گے۔

جس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی اس ترازومیں اگر یہ زکر رکھ دیا جائے تو وہ ترازواتنابڑا ہوگاکہ یہ کائنات رائی کے دانےبرابر ہوگی میں وہ پڑھ رہا ہوں جس کو ایک دفع پڑھیں تو آدھا ترازو بھی جائے ایسے میں 100 دفعہ پڑھ رہا ہوں اور 100 دفعہ پڑھنے سے کیسے ترازوہوں گے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں