لاہور ہائی کورٹ میں چینی کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد شوگر ملوں سے 80 روپے فی کلو کے حساب سے چینی اٹھانے کا حکم دیدیا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ ماہ رمضان میں چینی کی قیمت کےتعین کامعاملہ فوری نوعیت کاہے، رمضان میں شوگرملزسےچینی اٹھانےکی قیمت 80روپے فی کلو مقررکی جاتی ہے، افسوس 73سال سےہم اشیاخورونوش کی قیمتوں کےتعین کاطریقہ کاروضع نہیں کرسکے۔
چینی کی قیمت سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، 80 روپے فی کلو چینی فراہم کرنے کا

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ تمام شوگر ملزسےپیداوارکےتناسب سےچینی لی جائے، اور پنجاب کی شوگر ملوں سےایک لاکھ 55 ہزار ٹن چینی کے حصول کو بھی یقینی بنایا جائے۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت کےتعین کاطریقہ کاررمضان کےبعدطےکیا جائےگا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب صاحب آپ رولزبنانےکےکام کویقینی بنائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آج عدالت جوحکم جاری کرےگی وہ چینی کی مخصوص مقدارکیلئےہے،چینی کےحوالے سےتمام کیسوں کویکجا کرکےآیندہ سماعت پرپیش کیاجائے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اس حوالے سے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے پیغا م میں کہا ہے کہ80 روپے فی کلو چینی اٹھانے کا لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ ایک بڑا ریلیف ہے، یہ وزیراعظم عمران خان کی منافع خوروں سے عام آدمی کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد کی جیت ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں چینی مافیا کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔



شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں