اسلام آباد رمضان المبارک میں پیاس کا احساس اس وقت مزیدشدت اختیارکرلیتا ہے جب یہ ماہ مقدس موسم گرمامیں آتا ہے،کیوں کہ ایک طرف گرمی کا زور ہوتا ہے تو دوسری طرف روزہ کا دورانیہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتاہے۔لہذا ماہ صیام میں جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار کو برقرار اور پیاس سے مقابلہ کرنا نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تو یہاں ہم آپ کو پیاس پر قابو پانے کے چند نسخے بتانے جا رہے ہیں۔

پانی:پیاس بجھانے کابہترین ذریعہ پانی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماہرین کے مطابق پیاس کی شدت سے بچنے کے لئے روزانہ ڈیڑھ لٹر پانی ضرور پیئں۔ ماہرین پانی کے استعمال کا بھی طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبھی بھی پانی کی بوتل کو زیادہ دیرتک کھلامت چھوڑیں کیوں کہ ایسا کرنے سے مختلف اقسام کے بیکٹریاز اس میں داخل ہوکر متعددامراض کے جنم کاباعث بن سکتے ہیں۔اس کے علاوہ پانی کو ہمیشہ ابال کر ٹھنڈا کرنے کے بعد استعمال کریں۔ہر طرح کے لیکوئیڈ(مائع) کااستعمال: پیاس کے احساس کی شدت کوکم کرنے کے لئے پانی سے بھرپورسبزیوں اور قدرتی پھلوں کا جوس استعمال کریں۔ خیال رکھیں کہ ایسے جوسزسے پرہیز کیا جائے جن میں مصنوعی اجزاءیعنی شوگر اور رنگ وغیرہ شامل ہو۔

تازہ پھل اورسبزیاں:رات اورسحری کے وقت تازہ پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو ترجیح دیں، کیوں کہ یہ پانی کی خاص مقداراورریشوں سے بھرپور ہوتی ہیں،جو دیرتک آنتوں میں باقی رہتے ہیں۔ پھل اورسبزیوں کے استعمال کابنیادی مقصد بھوک اور پیاس کے احساس میں کمی لانا ہے۔

آخری وقت میں سحری کھانا: رات کے آخری حصہ میں نماز فجر سے کچھ دیر پہلے سحری کھانی چاہیے کیوں کہ یہ سنت بھی ہے۔ دیر سے سحری کھانے سے بھوک اور پیاس کے دورانیہ میں بھی کمی آئے گی، اس کے علاوہ سحری میں ہلکا پھلکا کھانا کھائیں۔

اس کے علاوہ ایسی غذا سے پرہیز کریں جو جسم سے پانی کو چرا لیتی ہے، جس میں نمک، مصالحہ جات، سوڈا، براہ راست دھوپ کا جسم پر پڑنا وغیرہ شامل ہے

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں