لاہور کی بینکنگ کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کی عبوری ضمانت میں 22 اپریل تک توسیع دے دی۔جہانگیرخان ترین کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ایف آئی اے ہمیں دوبارہ طلب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث حالات سب کے سامنے ہیں عدالت کو چاہیے کہ ہمیں تھوڑی بڑی تاریخ دے تاکہ ہم آرام کے ساتھ عدالتی کارروائی کا حصہ بن سکیں۔عدالت نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ انہیں عدالت کے اختیار پر کوئی اعتراض تو نہیں؟ جواب میں ایف آئی اے کے وکلا نے کہا کہ انہیں عدالت کے اختیار پر کوئی اعتراض نہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جب جہانگیر ترین ماڈل ٹاؤن سے اپنی رہائش گاہ سے نکلے تو ان کے ساتھ ارکان پنجاب اسمبلی اور ارکان قومی اسمبلی بھی موجود تھے۔ جہانگیر ترین جب عدالت پیش ہوئے تو 2 بڑی کوسٹرگاڑیوں میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی مشیران اور معاونین خصوصی بھی شامل تھے۔عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا ہم عدالت سے بھاگ نہیں رہے، عدالت جب بھی بلائے گی پیش ہوں گے، انشااللہ عدالت سے سرخرو ہوں گے۔ ایف آئی آر اسلام آباد میں بنی، یو ایس بی میں یہاں آئی، اور اس پر دستخط ہوئے، فون کال پر ٹیم بنائی گئی، جو ٹیم تحقیقات کر رہی ہے وہ فیئر نہیں ہے، تحقیقات کے لیے شفاف ٹیم بنائی جائےجہانگیر ترین کا کہنا تھا انکوائری ضرور کریں لیکن شفاف ٹیم بنائیں جو متنازع نہ ہو، ایسی ٹیم نہ ہو جو کسی کی فون کال پر کام کرے، جائز اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں