سلطان صلاح الدین ایوبی کا اصل نام یوسف تھا۔ آپ کے والد نجم الدین ایوب موصل کے امیر عماد الدین زنگی کے پاس ملازم تھے
1138 میں یہ بچہ پیدا ہوا جو آگے چل کر صلاح الدین ایوبی کے نام سے نامور ہوا۔
جب سلطان صلاح الدین ایوبی آٹھ برس کے تھے ، عماد الدین زنگی اپنے غلاموں کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا چھوٹا لڑکا نور الدین محمود حلب کا امیر بن گیا۔
نجم الدین اور اس کا بھائی شیر کوہ اس کے حامی تھے،چنانچہ جب انہوں نے دمشق فتح کیا، تو نور الدین محمود شام کا بادشاہ بن گیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کے لڑکپن کازیادہ زمانہ دمشق میں گزرا۔
فاطمی خلافت کے خاتمے پرخلیفہ بغدادنے سلطان صلاح الدین ایوبی کو مصر کا سلطان بنا دیا، اس زمانے میں تیسری صلیبی جنگ کے لیے یورپ سے فوجیں آنے لگیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کئی جنگوں میں ان کو شکستیں دیں اور دو اڑھائی برس کے بعد 20ستمبر 1187 کو بیت المقدس کے سامنے پہنچ گے ۔
طویل محاصرے کے بعد فتح حاصل ہوئی اور 4 اکتوبر 1187 کو نوے برس کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول پھر ان کے قبضے میں آگیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی پہلا مسلمان بادشاہ تھا جس سے یورپ کے عیسائیوں کو سابقہ پڑا۔ سلطان نے عیسائیوں سے اس قدر عدل و احسان، رحم و کرم اور دریا دلی کا برتائو کیا کہ آج تک تاریخ اس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔

فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ کو ساری عمر حج کرنے کا شوق رہا مگر جب بھی پیسے جمع کرتے کسی نہ کسی جہاد میں صرف کر دیتے،اور کہتے یہ رقم مسجد اقصی کی ازادی پر قربان،
اسطرح کرتے کرتے اپ نے اخر کار پچاس کی عمر میں مسجد اقصی کو 12 لاکھ یہودیوں اور عیسائی کی فوج سے آزاد کرایا
سلطان بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد دمشق چلے گے
آپ 1193میں ٹھنڈلگ جانے کی وجہ سے بیمارہو گے اور اسی علالت میں وفات پائی۔ اس وقت سلطان کی عمر 55 برس کی تھی
آپ ایک عظیم سلطان اورمجاہد رہ چکے تھے،مگر اس کے باوجودآپکے انتقال کے بعد گھر میں ایک تلوار اور47درہم برامد ہوئے جس سے سلطان کی تدفین بھی نہیں ہوسکتی تھی، چنانچہ قاضی نےآپ کے کفن اور تدفین کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کئے تھے۔

اللّه سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی مغفرت فرمائے …!

💞 آمین ثم آمین 💞

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں