زمانہء قدیم میں مسجدنبوی کوموراور شُتر مُرغ کے پروں سے بنے ہوئے برشوں اور جھاڑؤوں سے صاف کیا جاتا تھا۔ایک طویل مدّت کے بعد دُھول اورفرش صاف کرنے کےلئے استعمال ہونے والے ان برشوں سے مور اور شترمرغ کے پروں کونکال کر عُثمانی سلاطین کے پاس بھجوایا جاتا تھا

جنہیں وہ اپنی آنکھوں اورچہروں سے مس کرتے اور انہیں اپنی پگڑیوں کے اُوپر لگاتے.
عُثمانی سلطان آنسو بہاکرکہتے تھے کہ ہم رسول اللہ کے خادم ہیں اوران کے مبارک شہر کی خاک کے لائق نہیں ہیں!
دُنیا کے بادشاہ ہیرے جواہرات سے جڑے ہوئے تاج پہننے میں اعزاز محسوس کرتے تھے جبکہ مسلمان حکمران

ان پروں کو اپنی پگڑیوں اور تاجوں میں لگانا اعزاز سمجھتے تھے جن سے روضہء رسول اور مسجد نبوی کی صفائی ہوتی تھی، یہی وہ محبت و عشقِ رسول تھی جس کی برکت سے سلاطین اور عُثمانی خلفاء نے کئی صدیوں تک تین براعظموں پر حکومت کی،،،

پشیمانم پشیمانم پشیماں یا رسول اللہﷺ💖
فدِاکَ اَبی و امی یا رسول اللہﷺ 💖

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں