عوض الصبحی نامی یہ معمرسعودی شخص ایک صدی قبل بدر سے مکہ مکرمہ منتقل ہوئے.

ان کی عمر 110 سال سے اوپر ہوچکی ہے انہوں نے خلافت عثمانیہ،شریف آل مکہ کا دور اور پھر آل سعود کی بادشاہت تین مختلف ادوار اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں.

انہوں نے خانہ کعبہ میں دو نوکریاں کیں اور دونوں سے ریٹائرڈ بھی ہوگئے.

یہ 96 سال سے بیت اللہ شریف کا پابند نمازی ہے،اس دوران صرف دوباران سے بیت اللہ شریف کی نمازیں چھوٹ گئیں ایک بار جب 1979 میں جہیمان عتیبی نے بیت اللہ پر حملہ کرکے نمازیوں کو یرغمال بنایا تھا،دوسری بار جب یہ بیمار ہوئے تھے اور یہ زندگی میں ایک بار بیمار ہوئے.

عیدین کے علاوہ باقی پورا سال روزہ رکھتے ہیں.

پیرانہ سالی کے باوجود بغیر وہیل چیئر کے خود چل کر خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنے جاتے ہیں اس دوران الیکٹرک سیڑیاں استعمال نہیں کرتے بلکہ عام سیڑیوں سے چڑھتے اور اترتے ہیں،حالانکہ کافی ضعیف العمر ہوچکے ہیں.

ایک بارکسی جوان نے انہیں روک کرکوئی وصیت کرنے کو کہا بابا جی فرمانے لگے ایک نہیں تین وصیتیں کروں گا.

ہمیشہ تقوی اختیار کریں
والدین کی اطاعت کریں
نمازوں کی پابندی کریں

بابا جی کو حرم مکی کا کبوتر کہا جاتا ہے.

خانہ کعبہ باباجی کی پہلی اور آخری محبت ہے اور بابا جی اپنی محبت کو عشق کے درجے سے بھی آگے نبھا چکے ہیں اس محبت نے باباجی کو دنیا کے تمام ملکوں شہروں اور جگہوں سے بے نیاز کر دیا ہے،چنانچہ انہوں نے 100 سال سے کسی اور جگہ کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں