1430میں چرچ کی طرف سے میلیس میلفیکارم نامی کتاب ایک کیتھولک پادری ہینرک کرمر نے لکھا جس میں ایک چڑیل کی پہچان اور ان کے قتل کے طریقہ کارکے بارے میں بتایاگیا ہے یغنی انکو جلایا جائے، پھانسی دی جائے یا کیسی اور طریقے سے مارا جائے۔
یہ ایک قانونی کتاب تھی جس پرسارے

چرچوں نے مل کر عمل کیا۔ صرف عورت نہیں بلکے وہ مردجو چرچ کے سامنے یا انکے حکم کے خلاف ہوتے تو ان مردوں کو بھی نشانہ بنایا گیا انکوشیطان کاروپ سمجھ کر قتل کا نشانہ بنایا گیا۔
تقریباً پچاس ہزارسے لیکر ایک لاکھ تک عورتوں کو چڑیل سمجھ کر زندہ

جلایا گیاان عورتوں کی زیادہ سے زیادہ عمر40 سال تک ہوتی)یہ صرف وہ تعدادہے جن کو زندہ جلایا گیا اصل تعداد کی گنا زیادہ ہے۔جبکہ بہت سارے دانشوروں اور تاریخ دانوں کے مطابق اصل قتلِ عام کی تعداددس لاکھ سے زیادہ ہے جن میں80٪عورتیں اور 20٪ مردوں کوچڑیل یا شیطان سمجھ کر قتل کیا گیا۔
یہ قتل عام چرچ کی طرف سے 1430 سے لیکر 1830 تک جاری رہا۔(1400 سے پہلے بھی جاری رہی مگر 1400 کے بعد باقاعدہ اسکو قانونی حیثیت دی گئی)
اصل میں چرچ کے قریب عورت کو ایک کھلونا سمجھا جاتا تھا عورت کو رائے دینے اور کیسی بات میں مشورہ مانگنے وغیرہ کی کوئی حق نہیں تھی۔

ہم کو شکر کرنا چاہیئے کہ اسلام جیسا عظیم دین اور قرآن مجید جیسا عظیم کتاب زندگی کے ہرشعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ آج ہماری زوال کی بنیادی وجہ قرآن مجید کی اصولوں پر نظام کا نا ہونا ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں