مذہبی انتہا پسندی کی ایک سب سے بڑی وجہ غربت بھی ہے۔ انسان جتنا غریب ہو گا اتنا ہی عقیدے کا پکا ہو گا۔ گلف ممالک کے شہریوں کی طرف سے آپ کو فرانسیسیوں کے متعلق ایک بھی لفظ سننے کو نہیں ملا ہو گا۔ کیونکہ انکے پاس پیسہ ہے۔ انکے پاس زندگی کی تمام آسائشیں موجود ہیں۔ اور دوسرا وہ یوم آخرت پر یقین رکھتے الباکستانی جنگلیوں کی طرح ہر چھوٹی چھوٹی بات پر سر تن سے جدا کرنے کی باتیں نہیں کرتے۔ پوری زندگی دو وقت کی روٹی کے بارے میں سوچتے رہنے کی وجہ سے غریب انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ پھر ایسے انسانوں کو شدت پسند یہ کہتے ہیں کہ ہماری بربادی کی وجہ مذہب سے دوری ہے۔ حالانکہ ایسا غریب طبقہ تو مذہب سےسب سے زیادہ جڑا ہوتا ہے۔ جو امیر طبقہ ہے انکی اپنی زندگی میں مذہب کا عمل دخل دور دور تک نہیں ہوتا۔ لیکن انکے پاس تمام سہولیات زندگی موجود ہوتی ہیں۔ اسلئے وہ جینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان غریبوں کی طرح عقیدے کی بنا پر مرنے مرانے کی باتیں نہیں کرتے۔

جن چیزوں کا جنت میں وعدہ کیا گیا ہے وہ یہاں بھی حاصل کی جاسکتی ہیں اگر محنت کی جائے۔ اچھی خوراک، خالص دودھ، سونا اور خوبصورت عورتیں۔ غریبوں کو نسل در نسل جاہل رکھا جاتا ہے۔ تاکہ وہ یہ بات نا سمجھ سکیں کہ ہماری بربادی کی وجہ مذہب سے دوری نہیں۔ ملکی وسائل کا غلط استعمال ہے۔ اور ہمارے ملک کے وسائل کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہمارا ایک سربراہی ادارہ ہی کرتا ہے۔یہ جتنے بھی تحریک لبیک کے کارکنان پنڈی اور لاہور کی سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ انکی شکلیں بتا رہی ہیں کہ انکی زندگی میں فن نام کی کوئی چیز نہیں۔ انکی اکثریت کے پاس روزگار نہیں۔ انہوں نے کبھی فیملی کے ساتھ سینما میں جا کر مووی نہیں دیکھی ہونی۔ یہاپنے بچوں کو پارکس میں لگے جھولے تک دلوانے کے قابل نہیں۔ یہ پاکستان کے ناردرن ایریاز بس ٹی وی میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ انکی زندگی میں کسی قسم کی کوئی انٹرٹینمنٹ موجود نہیں۔اسلئے یہ ایک منافق کے پیچھے بارش میں سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔ آج انکو بہتر روزگار مل جائے۔ انکی بنیادی ضروریات زندگی آسانی سے پوری ہونے لگ جائیں۔ یہی لوگ کچھ عرصے بعد دماغ کا استعمال شروع کر دیں گے۔ اور پھر ایسے سڑکوں پر نکل کہ نا خود خوار ہوں گے نا دوسروں کو کریں گے۔

شہرون شہزاد

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں