لاہور (ویب ڈیسک) انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہا تھا کہ رفال طیارے کی انڈین ایئر فورس میں شمولیت پوری دنیا کے لیے ایک سخت پیغام ہے، خصوصاً ان کے لیے جو انڈیا کی سالمیت کو چیلنج کرتے ہیں۔وزیرِ دفاع کے اس سخت بیان کے بعد ایک مرتبہ پھرٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر دونوں ملکوں کے جہازوں کی صلاحتیوں کا مقابلہ شروع ہو گیا ہے۔بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔رفال طیارہ اس وقت انڈین ایئر فورس میں شامل کیے گئے ہیں جب چین اور انڈیا کے درمیان سرحدی تنازع اپنے عروج پر ہے۔اس طرح کے حالات میں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا انڈیا کا سب سے بہتر طیارہ چین کے طیارے کے مقابلے کا ہے۔

چین کا دعویٰ ہے کہ اس کے جہاز J-20 کی ٹکر کے جہاز صرف امریکہ کے پاس ہی ہیں۔رفال طیارے کو دنیا بھر میں اپنی اچھی پرفارمنس کی وجہ سے ترجیح دی جاتی ہے۔تکنیکی طور پر رفال جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے علاوہ وہ دنیا کے خطرناک اور جدید ہتھیاروں کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔اس میں دو طرح کے میزائل کے نظام نصب ہیں، جس میں سے ایک کی پہنچ 150 کلو میٹر تک ہے اور دوسرا 300 کلو میٹر تک مار کر سکتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس رفال کا ایک میزائل فضا سے فضا میں 150 کلو میٹر مار کر سکتا ہے اور 300 کلو میٹر فضا سے زمین پر نشانہ لگا سکتا ہے۔جہاز کی اونچائی 5.30 میٹر ہے اور اس کی لمبائی 15.30 میٹر ہے۔ ابھی تک رفال افغانستان، لبیا، مالی، عراق اور شام کی لڑائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔لیکن چینگدو J-20 کا کیس اس سے مختلف ہے۔ وہ اب تک کسی بھی فضائی لڑائی میں استعمال نہیں ہوا، کیونکہ چین نے کسی ایسی لڑائی میں حصہ ہی نہیں لیا۔ اس طرح ابھی دنیا کو پوری طرح معلوم نہیں ہے کہ چینگدو J-20 لڑائی کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں