نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے حلف کا معاملہ پھر لٹک گیا ۔ ایکسپریس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب ایک بار پھر مشکوک ہوچکی ہے کیوں کہ چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو لینے کے لیے لاہور سے اسلام آباد بھیجا گیا طیارہ خالی لاہور واپس پہنچ گیا ۔


ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے گورنر ہاؤس میں تقریب حلف برداری کی تیاریاں جاری ہیں جہاں تقریب میں 600 مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے تاہم تقریب کا حتمی وقت ابھی تک سامنے نہیں آسکا ۔ خیال رہے کہ پہلے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی حلف برداری آج ہوگی ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے لاہورآئیں گے ، اس معاملے پر وفاقی اور پنجاب حکومت کے درمیان رابطہ ہوا ہے جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے چیئرمین سینٹ کو وزیراعلی کا حلف لینے کا مشورہ دیا ۔بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کیلئے صدر مملکت کو نمائندہ مقررکرنے کی ہدایت کی تھی ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہا تھا کہ صدر پاکستان کو عدالتی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے ، صدر پاکسان کسی اور کو

حلف لینے کے لئے نامزد کریں۔ قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب کے نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی حلف برداری کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ، جہاں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل میں کہا کہ گورنرپنجاب کے حلف نہ لینے پر اسپیکرحلف لے سکتا ہے اور درخواست میں اسپیکرکو فریق نہیں بنایا گیا ۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ گورنرسمجھتے ہیں وزیراعلیٰ کا انتخاب آئین کےتحت نہیں ہوا، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ گورنر الیکشن کو جاکر دیکھے گا؟ اس پرایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر کوئی ربڑ اسٹیمپ نہیں، غیرمعمولی صورتحال ہوئی جوپہلے کبھی نہیں ہوئی ، جس کی وجہ سے ایک خاتون رکن زخمی ہوئیں وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔


جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ تو کیا اس واقعے سے ہاؤس کی پروسیڈنگ ختم ہو جائے گی، آج 21 دن ہوگئے صوبے میں کوئی حکومت نہیں ہے ، یہ الیکشن بھی عدالت کے حکم پر ہوا ، الیکشن کیسے ہوا یہ عدالت جانتی ہے، گورنر بتائیں کہ وہ غیر حاضر ہیں یا حلف نہیں لے سکتے۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ گورنر نے حلف لینے سے انکار کر دیا ہے اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ لکھ کر دے دیں کہ گورنر نے حلف سے انکار کردیاہے تاکہ ہم حلف کے لیے کسی اور کو کہہ دیں ، اگر گورنر نے انکار لکھناہے تو عدالت کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کے نام لکھیں

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں