اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اتحادی حکومت بنائی اور شہبازشریف کو وزیراعظم منتخب کیا جسے پی ٹی آئی اور اس کے کارکنان قبول کرنے سے انکار ی ہیں، اس دوران سوشل میڈیا

پر بھر پور مہم دیکھنے میں آئی ہے تاہم آج کل سوشل میڈیا صارفین کی توجہ میں مفتاح اسماعیل آ گئے ہیں اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ” اسماعیل انڈسٹریز لیمیٹڈ“ کے زیر انتظام چلنے والی کمپنیوں کا بائیکاٹ کیا جائے ۔تفصیلات کے مطابق ٹویٹر پر چلنے والی مہم میں کہا رہاہے کہ ” اسماعیل انڈسٹریز لیمیٹڈ “ کے مالک مفتاح اسماعیل ہیں اور اگر وکی پیڈیا سے معلومات حاصل کی جائیں تو وہ بھی یہی بتاتا ہے تاہم ابھی تک وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے اس پر کوئی موقف سامنے نہیں آ سکا ہے ۔

وکی پیڈیا پر مفتاح اسماعیل سے متعلق معلومات کے مطابق ، وہ کراچی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 1985 میں ” ڈوکیسن یونیورسٹی “ سے بزنس سٹیڈیز میں بی ایس کیا ، اس کے بعد انہوں نے پبلک فنانس اور پولیٹیکل اکانومی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری یونیورسٹی آف پنسلوینا کے وارٹن سکول سے حاصل کی ، اس کے بعد مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف میں بطور اکانومسٹ کام کیا ۔تین سال کے بعد وزیر خزانہ 1993 میں وطن واپس آ کر اپنے فیملی بزنس ” اسماعیل انڈسٹریز لیمیٹڈ میں شامل ہو گئے ،، یہ ادارہ کنفیکشنری بناتا ہے جس میں اس کی مشہور ترین مصنوعات بسکٹ ، ٹافیاں ، جیلی اور آلو کی چپس شامل ہیں ، اسماعیل انڈسٹریز کی سالانہ کمائی تقریبا 20 کروڑ ڈالر ہے ۔مفتاح اسماعیل نے 2011 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت حاصل کی اس کے بعد وہ سیاست کرنے لگے اور مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔سوشل میڈیا صارف عمر بن معاذ نے ٹویٹر

پر ” کینڈی لینڈ اور بسکونی “ کی جانب سے بنائی جانے والی مصنوعات کی تصویر شیئر کی اور صارفین سے اس کا بائیکاٹ کرنے کی درخواست کی ۔سوشل میڈیا صارف اختر نے بھی اسی مہم کے تحت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ کینڈی لینڈ، بسکونی ، ایسٹرو پاک ، سنیک سٹی ، انہار ملک ، کوکومو، رسول نواز شوگر ملز، شریف پولٹری ، اتفاق فاﺅنڈری ، مدنی ٹریڈنگ کمپنی کا بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ یہ تمام ن لیگ ے سیاستدانوں کی ملکیت ہیں ۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں