پنجاب میں حکومت سازی کے معاملے پر نگران وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے قریبی ساتھیوں و قانونی ماہرین سے مشاورت کی گئی

پنجاب میں نگران کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا گیا،بول نیوز کے مطابق حکومت سازی کے معاملے پر نگران وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے قریبی ساتھیوں و قانونی ماہرین سے مشاورت کی گئی ہے۔ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک پنجاب کی اگلی حکومت کے متعلق فیصلہ نہیں کیا جاتا اس وقت کے لئے نگران کابینہ کا اعلان کیا جائے تاکہ صوبے کے معاملات کو احسن انداز سے چلایا جا سکے۔


نگران وزیراعلیٰ نے مشاورت کے بعد صوبے کی بہتری کے لئے نگران کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا،اور اس کے بعد ان کو نگران وزیراعلی پنجاب بنایا گیا تھا ،گورنر پنجاب چوہدری سرور نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کیا تھا،پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 اپریل کو طلب کر لیا گیا۔

گورنرچودھری سرور نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کو خط لکھ دیا،گورنرپنجاب نے مراسلے میں کہا کہ قائدایوان کا عہدہ خالی ہوچکا، عثمان بزدار نے 20 اگست 2018 کو حلف اٹھایا تھا۔عثمان بزدار 2001 سے 2008 تک تونسہ کے تحصیل ناظم رہے، 2013 میں پہلی بار پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔2018ء میں ایم این اے منتخب ہو کر 20 اگست کو وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم نے عثمان بزدار سے استعفیٰ لے کر پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا تھا۔گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کا استعفیٰ طلب کیا تھا اور پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ نامزد کیا تھا تاہم اب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا استعفیٰ گورنرہاؤس کو موصول ہوگیا ، عثمان بزدار کا استعفیٰ اب گورنر پنجاب چوہدری سرور نے منظور کر لیا، گورنرپنجاب استعفیٰ منظور کرکے اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کردیں گے ۔
علاوہ ازیں پنجاب کا سیاسی معرکہ سر کرنے کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے جہاں شہباز شریف اورحمزہ شہباز کے پی ٹی آئی کے مختلف گروپس سے ٹیلی فونک رابطے کیے گئے ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے چھینہ گروپ کے غضنفر عباس چھینہ سے رابطہ کیا ، لیگی رہنماؤں اور غضنفر عباس چھینہ کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، دونوں رہنماؤں نے پنجاب میں متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت مانگ لی جس پر غضنفر عباس چھینہ نے گروپ کے ساتھ مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا جب کہ حمزہ شہباز جلد چھینہ گروپ سے ملاقات بھی کریں گے۔


بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے جہانگیر ترین گروپ کے اہم رہنماؤں سے بھی ٹیلی فونک رابطے کیے گئے ، ان رابطوں میں ترین گروپ کی جانب سے اپوزیشن کو مثبت اشارہ دیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ادھر صوبہ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے کے لیے نمبر پورے ہونے کا دعویٰ کردیا ، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے لیے نمبرز پورے ہوگئے ہیں ، ناراض اراکین بھی چوہدری پرویز الٰہی سے رابطے میں ہیں اور ان کی حمایت حاصل ہے اور چند ناراض اراکین جلد پرویز الٰہی کے ساتھ ہوں گے ، جہانگیر ترین گروپ سے بھی رابطے میں ہیں ، جلد اس حوالے سے بھی مثبت پیش رفت ہوگی جب کہ ن لیگ کے افراد بھی پرویز الٰہی کے ساتھ ہیں۔


دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنماء چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں