راولپنڈی(این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کے خلاف سرکاری افسران کو دھمکیاں دینے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرکے کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ نے چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر لاہور سمیت افسران کے خلاف وہی زبان استعمال جو متحدہ قائد اور مذہبی جماعتنے کی تھی ،آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے، شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا کو گرانے کا کسی کا پروگرام نہیں،یہ نہیں ہوگا سرکاری زمین پر قبضہ کریں گے توکچھ ہم نہ کریں،جمہوریت میں مختلف نقطہ نظر سمجھ آتا ہے ،حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا،

مذہبی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کسی بین الاقوامی دباؤ میں نہیں لیا گیا،امید ہے جہانگیر ترین اپنا مقدمہ عدالت میں لڑیں گے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ سرکاری افسران کو دھمکی دے چاہے وہ رانا ثنا اللہ ہو یا کوئی اور۔انہوں نے کہا کہ آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے، وفاقی وزیر اطلاعات نے مزیدکہا کہ شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا کو گرانے کا کسی کا پروگرام نہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کو رپورٹ آئی کہ کئی اراکین اسمبلی نے اپنے حلقوں میں زمینوں پر قبضے کر رکھے ہیں جس پر انہوں نے انکوائری کا حکم دیا تھا۔انہوں نے کہا کہانکوائری میں پتہ چلا کہ سرکاری زمین ایک بے نامی بوڑھی عورت کے نام پر منتقل کی گئی اور پھر نواز شریف کی والدہ کے نام وہ زمین منتقل ہوگئی۔انہوںنے کہاکہ یہ کھلی بددیانتی تھی اس پر کارروائی ہوئی اور ریونیو اتھارٹیز نے نوٹسز جاری کیے، مسلم لیگ (ن) کے پاس حق ہے کہوہ ریونیو اتھارٹیز کے نوٹسز کو چیلنج کرے اس پر سارے قانونی راستے موجود ہیں تاہم دھمکیوں کا راستہ اپنایا جائیگا تو کارروائی ہوگی۔فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے وزیراعظم کے حکم پرصوبے میں کارروائی کی اور لوگوں سے زمینیں چھڑائی گئیں، کھوکھر برادران نے

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں