برسلز (ویب ڈیسک) امریکی صدر جوزف بائیڈن کی طرف سے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلاء کے اعلان کے بعد نیٹو ممالک نے بھی نیٹو ممالک نے بھی اپنی افواج کے انخلا پر ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔نیٹو کے اتحادی ممالک نے ایک اہم میٹنگ میں افغانستان میں اپنا آپریشن ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر جو بائیڈن کےاعلان کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں امریکی فوج کو آئندہ 11 ستمبر تک افغانستان سے نکال لینے کی بات کہی گئی تھی۔امریکا نے 2001ء میں 11 ستمبر کو نیو یارک کے ٹوئن ٹاورز پر القاعدہ کے حملے کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں نیٹو ممالک نے بھی امریکا کا ساتھ دیا تھا اور اپنی افواج افغانستان میں تعینات کی تھیں۔برسلز میں کانفرنس کے دوران نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس سٹولٹلن برگ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں نے منظم، مربوط اور سوچ سمجھ کر یکم مئی سے ریزولوٹ سپورٹ فورسز کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم افغانستان کو اپنی حمایت جاری رکھیں گے، ہمارے رشتوں میں یہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم افغانستان میں ایک ساتھ گئے تھے۔ ہم نے ایک ساتھ مل کر وہاں اپنا انداز اور طریقہ اختیارکیا اور وہاں سے نکلنے میں بھی ہم ساتھ ہیں۔افغانستان سے افواج کے انخلا کے معاملے پر بات چیت کے لیے اتحادی ممالک کے دفاعی اور خارجی امور کی وزرا کی میٹنگ ہوئی جس میں اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد نیٹو کے سکریٹری جنرل نے افغانستان کے تعلق سے یہ بیان جاری کیا

۔اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب کے دوران افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اپنے منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز یکم مئی سے ہوگا اور اختتام 11 ستمبر کو ہو جائیگا۔ یہ امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا وقت ہے اور امریکا اس انخلا کے عمل میں جلد بازی سے کام نہیں لے گا۔قوم سے خطاب کرتے ہوئے جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ افغان امن مذاکرات کی حمایت کرتے اور پاکستان کےکردارکو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ امن مذاکرات میں پاکستان،روس، چین نے اہم کردار ادا کیا۔دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے بھی فوجی انخلا کے حوالے امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر بات چیت کی۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں گفتگو کے بارے میں کہا کہ افغانستان امریکا کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور آسان انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے ہم اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ افغانستان کی قابل فخر سکیورٹی اور دفاعی فورسز اپنی عوام اور ملک کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں