نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی کامیاب پالیسی کے باعث ملک میں کورونا پرقابوپایا گیا اور اب نیوزی لینڈ میں تمباکو نوشی کے مکمل خاتمے کا نیا مشن شروع ہوجارہاہے،50 لاکھ آبادی والے نیوزی لینڈ میں تقریباً 5 لاکھ افراد یومیہ 10 یا اس سے زائد سگریٹ پیتے ہیں، اور اب حکام کی جانب سے ایسی قانون سازی کی تیاری کی جارہی ہے جس کے تحت دوہزار چار کے بعد پیدا ہونے والے شہری سگریٹ فروخت نہیں کرسکیں گے،اس قانون کے تحت نیوزی لینڈ دوہزار پچیس تک تمباکو نوشی سے پاک ہوجائے گا۔نیوزی لینڈ کا بڑا مشن ،تمباکو سے پاک نسل کا خواب حقیقت بنائیں گے،نیوزی لینڈ پر عزم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی کامیاب پالیسی کے باعث ملک میں کورونا پرقابوپایا گیا

اور اب نیوزی لینڈ میں تمباکو نوشی کے مکمل خاتمے کا نیا مشن شروع ہوجارہاہے،50 لاکھ آبادی والے نیوزی لینڈ میں تقریباً 5 لاکھ افراد یومیہ 10 یا اس سے زائد سگریٹ پیتے ہیں، اور اب حکام کی جانب سے ایسی قانون سازی کی تیاری کی جارہی ہے جس کے تحت دوہزار چار کے بعد پیدا ہونے والے شہری سگریٹ فروخت نہیں کرسکیں گے،اس قانون کے تحت نیوزی لینڈ دوہزار پچیس تک تمباکو نوشی سے پاک ہوجائے گا۔نیوزی لینڈ میں اگر تمباکو نوشی کو جڑ سے ختم کرنے کا قانون منظور کرلیا گیا تو اس کے بعد اگلا مرحلہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی عمر میں اضافے کے قانون پر کام کا جائے گا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں بڑے اسٹورز سگریٹ فروخت نہ کرنے کا پابند بنایا جائے گا اس کے ساتھ ہی سگریٹوں میں نیکوٹین کی مقدار بھی کم کی جائے گی۔نیوزی لینڈ کی ایسوسی ایٹ وزیر صحت ڈاکٹرعائشہ ویرال نے بتایا کہ ہرسال صرف تمباکو نوشی کی وجہ سے ہمارے ملک میں 4 ہزار 500 افراد زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں، دوہزار پچیس تک نیوزی لینڈ سے تمباکو کا خاتمہ کرنے کیلئے اقدام میں مزید تیزی لانا ہوگی، سست روی کا شکار ہوئے تو مقصد کا حصول مشکل ہوجائے گا۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن نے ڈاکٹر عائشہ کے خیالات سے اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2022 تک 18 سال سے کم عمر کے افراد کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی لگادی گئی تو سگریٹ سے پاک نسل کا خواب آسان ہو جائے گا

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں