پی آئی اے کو یومیہ 60 ہزار ڈالر ادائیگی سے معیشت کو بہت نقصان ہوتا، یہ کہتے رہے ایسا کچھ نہیں مگر پی آئی اے کو لکھا خط سامنے آگیا،عمرہ وفد میں ڈرائیور، باورچی، مالشیے سمیت 84 لوگ شامل ہیں۔ مرکزی رہنماء پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت کو عوامی دباؤ کی وجہ سے دورہ سعودی عرب پر یوٹرن لینا پڑا، عوامی دباؤ نہ ہوتا تو معیشت کو بہت نقصان ہوتا، پی آئی اے کو یومیہ 60 ہزار ڈالر ادائیگی ہوتی، یہ کہتے رہے ایسا کچھ نہیں مگر پی آئی اے کو لکھا خط سامنے آگیا،عمرہ وفد میں ڈرائیور، باورچی، مالشیے سمیت 84 لوگ شامل ہیں۔


انہوں نے عثمان ڈار اورزلفی بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سعودی وزٹ پر یوٹرن لینا پڑا، کیونکہ عوامی دباؤ بہت زیادہ تھا، ورنہ معیشت پر بہت زیادہ نقصان ہوتا،پہلے کہتے تھے کہ ہم نے تو ایسا کچھ نہیں کیا، ساٹھ ہزار ڈالر پی آئی اے کو حکومت نے ادائیگی کرنی تھی، یہ روزانہ کا خرچ ہونا تھا جس میں 84 لوگ شامل تھے اس میں ان کے ڈرائیور، باورچی، مالشیے شامل تھے۔

یہ کس قسم کی عبادت کرنے جار ہے تھے؟میں سمجھتا ہوں کہ ہوتی اور بی این پی نے بیان دیا کہ عبادت تو اپنے پیسوں سے ہوتی ہے، ہم میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ ہونے کی بنیادی وجہ ایل این جی کے سب سے بڑے سودے ن لیگ نے کیے تھے تو وہ ڈیفالٹ کرگئے ہیں ، ایل این جی پاکستان میں نہیں آئی، اس کے بعد لوکل گیس پر پاورپلانٹس کو شفٹ کرنا تھا، وہ نہیں کیا، پھر کوئلہ کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ بحران ہوا ہے۔


تحریک انصاف نے 10سال میں ڈیزل کا ذخیرہ تھا، اب ڈیزل کا بحران ذخیرہ اندوزی کی وجہ ہے، آٹا، چینی ، گھی کی قیمت میں 15روپے اضافہ ہوچکا ہے، اسی طرح بدامنی جیسا کہ کراچی کا واقعہ ، پوری حکومت اس وقت قیاس کا شکار ہے، ساری توجہ حمزہ شہبازپر ہے کہ وہ وزیراعلیٰ بن جائے۔ پاکستان کے موجودہ بحران کا واحد حل نئے انتخابات ہیں، یہ حکومت مستقل فیصلے نہیں کرسکتے۔ عدالت میں حمزہ شہباز، اور شہبازشریف پرفرد جرم عائد ہونی ہے، 40ارب کا کیس ہے، لیکن وکیل کہتا ہے کہ وزیراعظم میٹنگ میں ہونے کی وجہ سے نہیں آسکتے۔عدالت نے تاریخیں دے دیں۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں