دبئی ، اسلام آباد( آن لائن، این این آئی  )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سفارت کاروں کا بھی کڑا احتساب کیا جائے گا اور سعودی عرب میں جن سفارت کاروں کی شکایات ملی ہیں انہیں واپس بلانیکا فیصلہ کیا ہے۔ دبئی میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایسے سفارت کار نہیں چاہئیں جن کی شکایاتموصول ہوں اور کمیونٹی ان سے ناخوش ہو۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار ہو چکا ہے، اوورسیز پاکستانی 10 ماہ سے ہر ماہ 2 ارب ڈالرز کا زرمبادلہ بھیج رہے ہیں،

سفارتی مشنز اوورسیز کمیونٹی کے مسائل حل کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سیاحت کو فروغ دے رہا ہے، شمالی علاقہ جات میں انفرا اسٹرکچرکو بہتر بنایا جا رہا ہے جس سے ناصرف لوگوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے بلکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔دریں اثنا افغان وزیر خارجہ محمد حنیف آتمر نے دوبئی میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں افغان عمل امن پر اب تک سامنے آنے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اتوار کو ہونے والے رابطے میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین ماہ صیام کے حوالے سے مبارک باد کا تبادلہ کیا گیا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ایک پر امن، اور مستحکم افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے ،ہمافغانستان میں پر تشدد واقعات میں کمی کے خواہشمند ہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے کی جانے والی کاوشوں میں شراکت دار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، افغانستان کو پرامن اور مستحکم بنانے کیلئے اپنی مصالحانہ معاونت جاری رکھنے کیلئےپر عزم ہے ۔وزیر خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ افغانستان میں دیر پا قیام امن کی کوششوں میں ” استنبول پراسس” دوحہ ایگریمنٹ کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے معاون ثابت ہو گا ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ٹیلیفونک رابطے پر اپنے افغان ہم منصب محمد حنیف آتمر کا شکریہ ادا کیا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں