اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی/آن لائن)پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کے 31 ارکان اسمبلی نے بیٹھک کی اور انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ارکان اسمبلی نے جہانگیر ترین کو کہہ دیا وہ جو بھی فیصلہ کریں گے انکے ساتھ ہوں گے ۔ حکومتی روئیے کیخلاف چند ہم خیال ارکان اسمبلی نے استعفے کی پیشکش بھی کی تاہم فوری استعفو ں کے آپشن کو مسترد کر دیا گیا اورآئندہ اجلاس21اپریل بدھ کو بلالیا گیا جس میں حتمی فیصلے ہونگے ۔قومی موقر نامےدنیا میں شائع ارکان نے تجویز دی کہ حکومت اور وزیراعظم کی طرف سے کسی قسم کی لچک نہ ہونے کی صورت میں مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی سخت اور بولڈ فیصلہ کر لینا چا ہئے ۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جہانگیر ترین کی پیشی کے بعد ان کے گھر پر 31 ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا جن میں 9ارکان قومی اسمبلی راجہ ریاض ، سمیع گیلانی، ریاض مزاری،خواجہ شیراز ،مبین عالم انور،جاوید وڑائچ، غلام لالی، غلام بی بی بھروانہ،فیض الحسن شاہ اور 2صوبائی وزرا،4مشیروں سمیت 21ارکان پنجاب اسمبلی نعمان لنگڑیال (وزیر)،اجمل چیمہ (وزیر)، عبد الحئی دستی (مشیر)،امیر محمد خان (مشیر)،رفاقت گیلانی (مشیر)، فیصل جبوانہ (مشیر)، خرم لغاری ،اسلم بھروانہ،سعید اکبر نوانی، نذیر چوہان،آصف مجید،بلال وڑائچ،عمر آفتاب ڈھلوں، طاہر رندھاوا، زوار وڑائچ،نذیر بلوچ،امین چودھری،افتخار گوندل،غلام رسول سنگھا،سلمان نعیم،قاسم لنگا،سجاد وڑائچ شامل تھے ۔ اجلاس میں سیاسی صورتحال سمیت جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کیخلاف مقدمات اور مزید انکوائریوں بارے مشاورت کی گئی ہے ۔ ارکان اسمبلی نے جہانگیر ترین سے کہا کہ ہمیں صرف عدالتوں میں پیشیوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے ، اپنی پارلیمانی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ اس موقع پر جہانگیر ترین نے 21اپریل کو اپنے گھر لاہور میں افطار ڈنر پر مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں