لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی لقمان شیخ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ جہانگیر ترین ایک عاجز انسان ہیں، دولت اور شہرت ہو تو انسان میں غرور اور تکبر آ ہی جاتا ہے مگر ان میں ایسی خصلت نہیں ہے وہ دوستوں کے دوست ہیں اور سیاست میں انہوں نے صرف دوست ہی بنائے ہیں۔وہ اپنی تحریک انصاف سے انصاف کے متمنی ہیں، چینی کمیشن کیس میں جہانگیر ترین خان نے 22 اپریل تک ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی ہے۔ ایف آئی اے اور جے کے ٹی کر درمیان تفتیش کا کھیل جاری ہے، اگر جہانگیر ترین کو ایف آئی کی جانب سے انصاف نہ ملا تو وہ عدلیہ سے رجوع کریں گے۔

دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جہانگیر ترین نے اپنی پیشی پر پارٹی ارکان کے ساتھ جو پاور شو کیا اس کے پیچھے وہی محرکات ہیں جو سسٹم چلا رہے ہیں میرے خیال میں یہ محض منہ کی باتیں ہیں۔دوسری طرف عمران خان کے وزیر مشیر، ان کو اس بات پر قائل کر چکے ہیں کہ ترین آپ کو پریشرائز کررہے ہیں جس پر دیرینہ دوست نا خوش ہیں۔ اور جب بادشاہ نا خوش ہوتا ہے تو دوستی بھول جاتا ہے۔ بہرحال آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جہانگیر ترین اپنے گھر کی بیسمنٹ میں خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں اور اپنا اگلا سیاسی لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ ہواؤں کا رخ کبھی بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ کل کے مخالف، دوست اور آج کے دوست مخالف بن سکتے ہیں. ستر سالوں سے یہی ہوتا آ رہا ہے اور یہی ہماری سیاست ہے دوستو! کالم کے شروع میں عرض کی تھی کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔سیاست صرف مفادات کا نام ہے جس کو جہاں سے مفاد ملتا ہے وہ اسی کے گن گاتا ہے۔عمران خان نے ترین کے ساتھ وہی کیا جو ماجد خان کے ساتھ کیا تھا ایسے میں جہانگیر ترین خان کا یہ کہنا کہ میں تو دوست تھا ہماری چومکھی سیاست میں دیوانے کے خواب جیسی ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں