ے مثالی قوت، دماغی تقویت، نظر کی قوت اور عینک کے توڑ کیلئے قدرت نے کالی کشمش میں ایسی خاصیت رکھی ہے کہ یہ تمام مسائل کو حل کرتی ہے.زرک شیریں کے نام سے جانے جانی والی یہ سیاہ کشمش باریک دانے جو کہ عموماً ڈبل روٹی یا کیک میں ڈالے جاتے ہیں کسی بھی عام پنساری کی دکان سے مل جائے گی۔یہزرشک شیریں دماغی تقویت، نظر کی قوت، عینک کے توڑ کیلئے قدرت کا ایک انوکھا طبی راز ہے دائمی سردرد کے مریض یا جن کے چہرے پر جھریاں بڑھتی چلی جارہی ہوں ان کیلئے بہت مفید ہے. قبض، قبل از وقت بڑھاپا، جسم کی تھکن، طبیعت کی تھکن، ہیپاٹائٹس کا پرانے سے پرانا مریض جگر کی کوئی تکلیف، کالا یرقان ہو یا پیلا، جگر سکڑ رہا ہو یا جگر کا کینسر بتایا گیا ہو، ان سب کیلئے انوکھا تریاق ہے. صبح نہار منہ اور عصر کے بعد کھانے کا ایک چمچ زر شک شیریں نیم گرم دودھ کے بڑے گلاس کے ساتھ خوب چبا چبا کر کھائیں. گرمی کے موسم میں اس کو ایک انوکھا مزہ ہے .

عرق گلاب ایک چھوٹا چائے کا کپ لے کر اس میں دو بڑے چمچ زرشک شیریں کے رات کو بھگودیں. صبح نہار منہ زرشک شیریں خوب چبا چبا کر کھائیں اور اوپر سے ہلکا ہلکا گھونٹ عرق گلاب کاپی لیں حسن، جوانی، نکھار، شادمانی، دماغ، دل، پٹھے، اعصاب، جسمانی قوتیں اور کھوئی ہوئی طاقتوں کے حصول کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی چیز شاید آپ کو نہ ملے۔یہ قدرت کا ایک انوکھا میوہ ھے. جو کہ گیارہ ہزار سے ستر ہزار فٹ بلندی پرسرسبز پہاڑی علاقوں میں ایک جھاڑی نما پودہ ھوتا ھے جسے پہاڑی لوگ چن چن کر بیچتے ہیں اس طرح چلتے چلاتے بازاروں سے ہر پنساری سٹور سے عام سستے داموں مل جاتا ھے آپ نے عقابی نگاہیں محاورہ پڑھا ھو گا یعنی ایسی تیز نگاہیں جو میلوں سے باریک چیز دیکھ لیتی ھے.حیران ھوں گے کہ عقاب کی خوراک یہی کالے دانے یعنی جنہیں میں کالی کشمش کہوں گا.عقاب ان دانوں کو کھا کر ایسا طاقتور ھوتا ھے وہ پل بھر میں زمین پر چلنے والے سانپ کو بھی جھپٹ لیتا ھے. یقین جانیے! یہ سستی زرشک شیریں کیا خوب چیز ہے… جو بھی کھائے عقابی نظریں عقابی اڑان‘ عقابی پھرتی عقابی طاقت اور عقابی ولولے‘ عقابی جذبے اور عقابی جھپٹنا‘ عقابی پلٹنا اور عقابی لہو گرم رکھنے کا یہ زرشک شیریں ایک بہانہ ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھا عقاب زمین پر چلنے والے چھوٹے سے چھوٹے کیڑے اپنی تیز نگاہوں سے دیکھ لیتا ھے ۔یہ ایک ایسی عمدہ و اعلی بوٹی کا پھل ھے جس کو ٹائروں کے دھوئیں اور کیمیکل کی آلودگی کا اثر اس پر نہیں پڑتا قدرت کے انوکھے رازوں میں اس کی نشوو نما ھوتی ھے۔ شبنم جھوم جھوم کر اس کو چومتی ھے بارش ڈوب ڈوب کر اس کو پالتی ھے

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں