آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی، جج نے فیصلہ سنانے سے پہلے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلایا تو عمران خان بولے میں آ رہا ہوں، جلدی تو آپ کو ہے، ہم نے تو جیل میں ہی رہنا ہے، جج نے عمران خان سے استفسار کیا کہ 342 کے بیان پر دستخط کرینگے جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پہلے بتائیں یہ (342 کا بیان) ہوتا کیا ہے،فاضل جج نے کہا کہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو سوالوں کے جواب دینے کا موقع دے رہا ہوں، عمران خان نے کہا کہ میں اپنا جواب خود لکھوانا چاہتا ہوں،جس پر جج نے کہاکہ اچھی بات ہے
آپ اپنا جواب خود لکھوائیں، جج نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 342کے بیان کیلئے سوالنامہ اور اسٹیٹمنٹ کی کاپیاں فراہم کیں،دونوں سے تقریباً 36 سوالوں کے جواب مانگے گئے، دونوں نے خود جوابات لکھوائے، جج نے سزا سنانے سے پہلے آخری سوال پوچھا خان صاحب سائفر کہاں گیا؟، عمران خان نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں ہے، میں نے اپنے بیان میں لکھوا دیا ہے، عمران خان نے 342 کے بیان میں بتایا کہ سیکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکٹری، پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری پروٹوکول پر آتی ہے جو وزیراعظم ہائوس کی سیکیورٹی کو دیکھتے ہیں، میرے ساڑھے 3 سال کے دوران یہ واحد ڈاکومنٹ ہے جو وزیراعظم آفس سے گم ہوا، سائفر گم ہونے پر ملٹری سیکرٹری سے کہا کہ انکوائری کی جائے، وہ واحد موقع تھا جب میں ملٹری سیکرٹری سے ناراض بھی ہوا، میرے اے ڈی سی میں سے ایک نے جنرل باجوہ کی ایما پر سائفر چوری کیا، ملٹری سیکٹری نے انکوائری کے بعد بتایا کہ سائفر کے حوالے سے کوئی کلو نہیں ملا، منتخب وزیراعظم کو سازش کے ذریعے ہٹایا گیا،جنرل باجوہ اور امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو سازش میں شامل تھے، میری حکومت گرانے کے لئے سازش اکتوبر 2021 میں ہوئی جب جنرل باجوہ نے آئی ایس آئی چیف جنرل فیض کو تبدیل کیا،جنرل باجوہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ملی بھگت سے یہ سب ہوا کیونکہ انہوں نے جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع کا وعدہ کیا تھا،حسین حقانی کو امریکہ میں جنرل باجوہ کی لابنگ کے لیے ہائر کیا گیا،حسین حقانی کو 35 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی گئی،اپریل میں حسین حقانی نے ٹویٹ کیا کہ عمران خان اینٹی امریکہ جبکہ جنرل باجوہ پرو امریکہ ہے، ہمارے اتحادی ہمیں چھوڑ جائیں اس کے لئے جنرل باجوہ نے آئی ایس آئی کو استعمال کیا،آئی ایس آئی نے ہمارے لوگوں کو پی ٹی آئی چھوڑنے پر مجبور کیا اور کہا کہ ان کا مستقبل ن لیگ کے ساتھ ہے،میں نے جنرل باجوہ سے مل کر اس سازش کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں،جنرل باجوہ سے ملاقاتوں کے باوجود آئی ایس آئی ہماری حکومت کے خلاف کام کرتی رہی،مارچ کے پہلے ہفتے میں میرا روس کا دورہ تھا جس میں دفتر خارجہ کی مرضی بھی شامل تھی،روس جانے سے قبل جنرل باجوہ سے بھی بات ہوئی،جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ روس جانا چاہئے،روس سے واپس آنے کے کچھ دنوں بعد شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ واشنگٹن سے اسد مجید نے سائفر میسج بھیجا ہے،حیران کن سائفر تھا جو وزیر خارجہ اور وزیراعظم کو دکھانے کے لئے نہیں تھا،شاہ محمود قریشی نے اسد مجید کو ٹیلی فون کر کے سائفر سے متعلق معلومات حاصل کیں،میں سائفر کو پڑھ کر حیران اور ششدر رہ گیا، امریکی حکام کے ساتھ میٹنگ میں کسی سفیر کو دھمکایا گیا ہو اِس کی مثال نہیں ملتی،جس میں کہا گیا ہو کہ اگر وزیراعظم کو نہ ہٹایا تو اس کے نتائج ہوں گے،اسد مجید نے ڈونلڈ لو کو بتایا تھا کہ دورہ روس پر تمام اسٹیک ہولڈر آن بورڈ تھے،اسد مجید نے امریکہ کو ڈی مارش کرنے کا کہا تھا،ہمارے اتحادی پیغام بھیج رہے تھے کہ ان پر اتحاد چھوڑنے کے لیے آئی ایس آئی کا دبائو ہے،اس دوران امریکی سفارتخانہ بھی پاکستان میں متحرک تھا،ہمارے لوگوں کو امریکی سفارتخانے ملاقاتوں کے لئے بلایا جا رہا تھا،عاطف خان کو امریکی کونسل خانے بلا کر کہا گیا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دیں، اس دوران جنرل باجوہ سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں،ملاقاتوں میں کہا تھا کہ اگر حکومت گرائی جاتی ہے تو معیشت تباہ ہو جائے گی،کہا تھا کہ شہباز شریف کی حکومت جو پلان کی جا رہی ہے وہ معاشی صورتحال سنبھال نہیں پائے گی،جنرل باجوہ مسلسل جھوٹ بولتا رہا کہ وہ حکومت کو چلنے دینا چاہتے ہیں،عمران خان کے مطابق پریڈ گرائونڈ جلسے میں پیپر لہرایا اور صرف خطرے کا ذکر کیا،ملک کا نام نہیں لیا اور الفاظ کا بھی محتاط چنائو کیا گیا،جو پیپر لہرایا گیا وہ سائفر کی پیرا فریزڈ کاپی تھی،پلان جنرل باجوہ کو پیغام دینا تھا کہ اگر سازش ہوئی تو تمام پلان ایکسپوز کر دیا جائے گا،ڈونلڈ لو کی جانب سے سائفر جنرل باجوہ کے نام تھا کیونکہ جنرل باجوہ کے پاس ہی ہماری حکومت گرانے کی طاقت تھی،سندھ ہائوس میں بولیاں لگیں ایک ایک ایم این اے کی قیمت 20 کروڑ فکس کی گئی،اٹارنی جنرل نے سائفر پر بات کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ آئی ایس آئی نے انہیں اپروچ کیا تھا، حکومت گرائی گئی،میں عوام میں گیا، عوام کا ردعمل تاریخی تھا،کچھ ماہ بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے 37 میں سے 30 نشستیں جیتیں، عدالت نے 342 کے بیان قلمبند کرنے کے بعد جرم ثابت ہونے پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں ، پراسیکوشن جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے،شاہ محمود قریشی کی جانب سے بیان ریکارڈ کرانے سے قبل ہی فیصلہ سنا دیا گیا،جس کے فوری بعد جج ابو الحسنات ذوالقرنین عدالت سے اٹھ کر چلے گئے، فیصلے کے بعد عمران خان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، شاہ محمود قریشی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میرا تو ابھی بیان ہی ریکارڈ نہیں ہوا ہے، دوسری جانب فیصلہ آتے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر عمران خان کی آج کی دائر درخواست غیر موثر ہوگئی، درخواست میں سرکاری ڈیفنس کونسل مقرر کرنے کا عمل چیلنج کیا گیا تھا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں