پاکستان کا راکٹ چاند پر بھیجنے کی خبر سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی, چینی میڈیا میں چاند راکٹ کا زکر ہی نہیں

چینی میڈیا یا انٹرنیشنل میڈیا کہیں بھی رپورٹ نہیں کر رہا یہ پاکستان کا سیٹلائٹ لے کر جا رہا ہے ،یا یہ مشن پاکستان کے لیے پاکستان کی درخواست پر کیا ہے ،پاکستان کے میڈیا نے غلط پروپیگنڈہ کیا اور عوام کو یہ نہیں بتایا کہ اس مشن میں پاکستان کے طالب علموں کا بنایا ہواایک ڈبہ رکھ دیا گیا ہے اور کچھ نہیں ہے ،کمپنی اپنی توجہ ہٹاؤ مہم پر زور شور سے کام کر رہی ہے

ماضی میں پاکستان بھارت کے چاند راکٹ کا مزاق اڑا چکا ہے جب وہ فیل ہوا لیکن یہ پاکستان کے 7 کلو کے داکٹ کا اپنے ملک میں مزاق ہو رہا ہے

حیرت کی بات یہ ہے کہ چینی میڈیا میں اس پیش رفت کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس سے دعوے کی صداقت پر مزید شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ ٹویٹر اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان کے چاند مشن کے بارے میں مذاق اُڑانے والے لطیفوں اور میمز سے بھرے پڑے ہیں۔ بہت سے صارفین نے ملک کے جدوجہد کرنے والے خلائی پروگرام اور وسائل کی کمی کی نشاندہی کی ہے جس سے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ پاکستان چاند پر راکٹ بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کچھ لوگوں نے اس کا موازنہ ماضی میں وزیر کے دیگر غیر حقیقی دعووں سے بھی کیا ہے جو جھوٹے نکلے ہیں۔ مثال کے طور پر، ٹوئٹر صارف @ScepticPakistan نے لکھا، “پاکستان چاند پر راکٹ بھیج رہا ہے؟ یہ اچھی بات ہے! اگلی چیز جو آپ جانتے ہیں، ہم دعویٰ کریں گے کہ ہم نے ٹائم مشین بنائی ہے!” ”    !” tweeted @PakistaniReact. ”   ” is from @AliRazaKhann. میرے خیال میں ہمیں اس چاند کے کاروبار کو نمک کے دانے سے لینا چاہیے۔” چینی میڈیا میں کوریج کی کمی نے آگ میں مزید تیل ڈال دیا ہے، بہت سے لوگ یہ قیاس کرتے ہیں کہ چین بھی، پاکستان کا قریبی اتحادی اور مختلف منصوبوں میں شراکت دار، اس دعوے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ اس معاملے پر چینی میڈیا کی خاموشی کو ایک واضح اشارہ کے طور پر دیکھا گیا ہے کہ یہ دعویٰ قابل اعتبار نہیں ہے۔ اس سے پاکستانی حکومت اور وزیر کو مزید شرمندگی ہوئی ہے، جنہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور تضحیک کا سامنا ہے۔

آخر میں، پاکستان کے چاند پر راکٹ بھیجنے کے اعلان کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر کفر اور طنز کا سامنا کرنا پڑا، بہت سے لوگ اس دعوے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ چینی میڈیا میں کوریج کی کمی نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے، اور پاکستانی حکومت اور وزیر کو شدید تضحیک اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ دعویٰ ٹھوس شواہد سے ثابت ہوگا یا پھر یہ ایک اور جھوٹا وعدہ ثابت ہوگا۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں