‏بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام

‏میں اپنے تمام مقدمات سننے والے جج صاحبان سے گزارش کرتا ہوں کہ ان کیسز کو بلاجواز تاخیر کا شکار کرنے کی بجائے جلد سے جلد ان پر فیصلہ کیا جائے۔ دیر سے فیصلے کرنا بھی ناانصافی ہے سب کو معلوم ہے کہ چاہے القادر ٹرسٹ کیس ہو، عدت کیس یا پھر سائفر کیس ہو یہ تمام مقدمات جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

‏قاضی فائز عیسٰی نے بیان دیا کہ میرے او پر کوئی دبائو نہیں، دبا ئواس پر آتا ہے جو غلط کام کرنے سے انکار کرتا ہے، آپ تو تحریک انصاف کے خلاف بی ٹیم بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان چھینا،تحریک انصاف کو لیول پلئینگ فیلڈ فراہم نہیں کی،9 مئی واقعات کی آڑ میں ہمارے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے جس پر ہماری پٹیشن 25 مئی 2023 سے زیرِ التوا ہے جو آج تک سماعت کیلئے مقرر نہیں کی گئی، عام انتخابات میں کھلے عام ہونے والی دھاندلی کے خلاف دائرکردہ درخواستوں پر آج تک سماعت نہ ہو سکی، تحریک انصاف کی خواتین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کو التوا کا شکار کیے رکھا۔سپریم کورٹ کے فیصلوں سے نظریہ ضرورت ایک بار پھر سے زندہ ہو چکا ہے۔

‏بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ یہ تاریخی موقع ہے عظیم قومیں تاریخی موقعوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ڈرا دھمکا کر فیصلے لیے جا رہے ہیں جس سے ملک کا جوڈیشل سسٹم تباہ ہو رہا ہے۔ہائی کورٹس کے ججز کے لیٹر نے ثابت کر دیا کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے ۔قت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز بھی ہائی کورٹ کے ججز کی طرح کھڑے ہو جائیں اور غلط فیصلوں سے انکار کریں۔

‏”بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ بات چیت کیلئے ہمیشہ تیار ہوں لیکن بات چیت تب ہو گی جب ہمارا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے گا اور جیلوں میں قید ہمارے بے گناہ کارکنان کو رہا کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بات چیت مخالفین سے ہی ہوتی ہے تو جو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے سب سے بڑے مخالفین ہیں بات چیت انہی سے ہوگی۔”

‏انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی یہ مثال نہیں ملتی کہ ایک جرم پر تین ، تین کیسز بنائے جائیں، یہاں میرے اور میری اہلیہ پر توشہ خانہ پر پہلے ہی تین تین کیسز بنائے ہوئے ہیں جب ان میں سے بھی کچھ نہیں ملا تو اب چوتھا کیسز بنانے کی تیاری کی جا رہی ہیں جو کہ آئین و قانون کی کھلم کھلی خلاف ورزی ہے۔

‏بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ میں نے ٹیلی گراف کو خط لکھا ہے جس میں میں نے بتایا ہے کہ نہ صرف میری جان کو خطرہ ہے بلکہ جس طرح میری اہلیہ کو پچھلے تین ماہ سے میڈیکل ٹریٹمنٹ نہیں دیا جا رہا ان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

‏آخر میں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنی قوم کے نام پیغام میں کہا کہ ؛
‏”جو قومیں ظلم کے خلاف کھڑی نہیں ہوتیں وہ ہمیشہ غلام رہتی ہیں۔”

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں