پنجاب حکومت کا نیا سکینڈل میٹرو بس سروس کے نئے ٹوکن ، کرپشن کی دکان کھلنے کے لیے ایک نیا باب تیار

‏میٹرو بس کے ٹوکن کیوں ختم کیے گئے؟

‏میٹرو بس سروس کے یہ نئے ٹوکن، کرپشن کی دکان کھولنے کے لیے ایک نیا باب ثابت ہو سکتے ہیں۔

‏غور کیجیے، بغیر سیریل نمبر کے، یہ ٹکٹ کتنے پرنٹ ہوئے، کوئی نہیں بتا سکتا۔ اگر کہا جائے کہ ان ٹکٹوں کی اتنی گڈیاں پرنٹ ہوئی تھیں تو آڈٹ کا بس یہی ایک طریقہ ہو گا۔

‏اس میں سب سے بڑی قباحت کاغذی ٹکٹ کا بار بار پرنٹ ہونا ہے۔

‏آپ نے جب پلاسٹک کے سکے بنوا لیے تھے جو کہ کئی سالوں سے چل رہے تھے اور کمپیوٹرائزڈ بھی تھے، جن کا ریکارڈ بھی تھا کہ کتنے ٹکٹ سیل ہوئے، اور آڈٹ  بھی ممکن تھا  اب ان کو ختم کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اب ان پرانے  سکوں کا کیا ہو گا؟

‏پہلے ٹکٹ کاؤنٹر سے پلاسٹک کا سکہ ملنے سے پہلے اس کی کمپوٹرائزڈ مشین میں انٹری ہوتی تھی۔ پھر وہ سکہ پلیٹ فارم پر داخلے کے لیے مشین پر رکھا جاتا تھا تو مشین دیکھ لیتی تھی کہ یہ سکہ اصل ہے، ہمارے سسٹم میں اس کا اندراج ہے اور لینے والے نے پیسے دیے، تب جا کر کسی کے لیے میٹرو بس میں سفر کرنا ممکن ہوتا تھا۔

‏اب کاغذی تکٹ کی کوئی انٹری نہیں ہے، پلیٹ فارم پر چڑھتے وقت ایک صاحب ٹکٹ دیکھ کر داخلہ کی اجازت دیتے ہیں۔ اور واپسی پر ایک اور صاحب ٹکٹ واپس لیتے ہیں۔ واپس دیے گئے ٹکٹس کیونکہ کمپوٹرائزڈ  نہیں ہیں، ان کے سیریل نمبرز  بھی نہیں ہیں تو دوبارہ استعمال ہو سکتے ہیں۔

‏کمپیوٹر انجینیئر ہونے کے ناطے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ کرپشن کی غضب کہانی شروع ہو رہی ہے۔

‏✍️(تحریر: امتیاز احمد

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں