عجب کرپشن کی غضب کہانیاں !شریف خاندان ،زرداری خاندان ، سلیم سیف اللہ فیملی ، خواجہ آصف سمیت

ایسی باریک وارداتیں کہ عقل دنگ رہ جائے ۔ تہلکہ خیز انکشافات پر مبنی ہوشربا رپورٹ

جب ترکی سے سولر امپورٹ کرنے تھے تو کسٹم ڈیوٹی زیرو کر کے خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا ۔سیلز ٹیکس بھی زیرو کردیا ۔جب امپورٹ مکمل ہوگئی اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک بن گیا تو قیمتیں بڑھا دیں۔اس کو کہتے ہیں انسٹیٹیوشنلائزڈ کرپشن ۔پکڑ کر دکھاؤ!!پہلے سولر پلیٹ کے فروغ کا منصوبہ تھا۔ پھر کسی نے سمجھایا کہ اس طرح تو لوگ آزاد ہو جائیں گے۔ واپڈا ، میٹر،  بلوں سے جان چھوٹ جائے گی ۔پھر دس ہزار میگاواٹ کا سولر پلانٹ کا منصوبہ بنا۔دو دو ہزار میگاواٹ کے پانچ پلانٹ بانٹے گئے ۔رینٹل پاور پراجیکٹس کی طرح اب عام صارفین کو سولر سے بنی بجلی واپڈا کے ذریعے ہی دی جائے گی۔

 

اگرچہ شروع میں بل کچھ کم ہوگا مگر آہستہ آہستہ بڑھا کر حال رینٹل پاور جیسا بنا دیا جائے گا۔ اس وجہ سے عام صارفین کے لیے سولر پلیٹس کی خریداری اور تنصیب ناممکن بنائی جارہی ہے۔

ایسے کرتے ہیں یہ کرپشن دکھاؤ پکڑ کے!! ارشد شریف بیچارہ ان کے خلاف گلا پھاڑتا رہا مگر افسوس کسی نے نا سنی ۔

 

شریف خاندان ،زرداری خاندان ، سلیم سیف اللہ فیملی ، خواجہ آصف سمیت سب کے کرائے کے بجلی گھر ہیں۔ظلم یہ ہوا کہ یہ پلانٹس پانی، ہوا، سولر کو چھوڑ کر فرنس آئل اور کوئلے سے چلائے گئے۔اس کے لیے امپورٹس کا بل بڑھ گیا، اسی وجہ سے سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ پیدا ہوا۔

 

دوسرا ظلم یہ کہ حکومت سے جو معاہدے کیے وہ استعمال پر نہیں بلکہ کیپسٹی کے تحت کئے گئے

 

یعنی اگر گرمیوں میں ہماری ضرورت 23 ہزار میگاواٹ ہے تو کمپنیوں نے کہا کہ ہم تو چالیس ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کی کیپسٹی رکھتے ہیں۔اس طرح حکومت سے کیپسٹی پیدوار کی پے منٹ لی جاتی ہے، جب کہ استعمال اس سے کہیں کم ہوتا ہے اور استعمال سے زیادہ کی بجلی کمپنیاں بناتی بھی نہیں مگر قیمت وصول کی جارہی ہے۔سردیوں میں یہی استعمال تیرہ ہزار تک آجاتا ہے مگر قیمت وہی چالیس ہزار کی لی جاتی ہے!!

 

یوں سمجھیں، آپ پنڈی سے لاہور والی بس پر بیٹھیں اور گوجر خان اتر جائیں مگر گاڑی والا آپ سے لاہور تک کا کرایہ وصول کر رہا ہے ۔یہ ظلم آج تک جاری ہے۔

 

اب اس میں مسئلہ یہ آگیا کہ فرانس آئل، کوئلہ وغیرہ منگوانے کے لیے ملک میں ڈالر موجود نہیں اور جن کے پاس ڈالر ہیں وہ ملک میں لانا نہیں چاہتے ۔اس لیے موجودہ حکمران جن کے اپنے رینٹل پاور پراجیکٹس ہیں، انھوں نے سوچا کہ اب تو رینٹل پاور سے بجلی پیدا کرنا ممکن نہیں رہا اور کچھ عرصہ میں بالکل بھی ممکن نہیں رہے گا۔

 

اس لیے متبادل کے طور پر قوم کو سولر کی زنجیر میں باندھا جائے۔اس کے لیے بھی ماڈل وہی رینٹل پاور پراجیکٹس والا رکھا گیا ہے ۔یعنی مبینہ طور پر دو دو ہزار میگاواٹ کے پلانٹس قریبی لوگوں کے نام پر بانٹ دئیے گئے ہیں۔جن سے مجموعی طور پر دس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور یہ بجلی واپڈا کے سسٹم کے زریعے ہی قوم کو دی جائے گی۔

 

اس کے برعکس اگر سولر پلیٹس بنانے کے کارخانے لگاتے اور سستی پلیٹس لوگوں کو فراہم کرتے تو چند سالوں میں انقلاب آجاتا۔۔۔مگر اس طرح ان کی نسلوں کا کاروبار نہ چلتا یہ ہیں ان کے فراڈ اور کرپشن کے طریقے مگر ہم سیاسی وابستگیوں کے باعث ان کی چوریوں پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔

 

حالانکہ یہ قوم کا مجموعی مفاد ہے اور مجموعی نفع نقصان کی بات ہے ۔۔

خدارا! اس سولر سسٹم کی میگا چوری کو بے نقاب کریں ، اللہ کی طرف سے مفت ملنے والی بجلی قوم کو کروڑوں میں کیوں بیچی جارہی ہے۔ کمیشن کا دور چلا گیا، اب کرپشن کو باقاعدہ ایک ہنر بنا دیا گیا ہے۔

 

جیسے رینٹل پاور بنائے اور قوم کو آج تک مہنگی بجلی بیچ رہے ہیں ، اب سولر سسٹم پر بھی یہی منصوبہ بندی ہے ۔ یہ حکومت میں رہیں نا رہیں، ان کی نسلوں کا کاروبار چلتا رہے گا اور ایک دن آئے گا یہ سولر سسٹم بھی قوم کے لیے وبال جان بنا دیں گے۔۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں