شیر افضل مروت نے آج بھی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر بڑے انکشافات کردیے۔

‏کہاآج کچھ متنازعہ باتیں کروں گا،کل بھی عمران خان سے ملاقات کے لیے آیا،سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ عمران خان آپ سے علحیدہ ملیں گے،آج بھی جیل سپرنٹنڈنٹ نے ملاقات نہیں کرائی،شبلی فراز اور عمر ایوب نے میری یہ ملاقات نہیں ہونے دی،شبلی فراز نے کہا ن لیگ کہتی ہے اگر ان کو پی اے سی کا چئیرمین بنائیں گے تو ہمیں قبول نہیں ہے،میرے اپنے لوگ ہماری ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔

 

شبلی فراز نے عمران خان کو کہا ہے کہ سعودی سفیر نے کہا ان کو چئیرمین نہ بنائیں،پی ٹی آئی کو سندھ سے خیبر پختونخواہ تک اٹھایا،یہ جماعت ایک مردہ گھوڑا بن چکی تھی،اپنی ذات کی بے توقیری کسئ صورت قبول نہیں،خالد لطیف کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا، یہ تذلیل کی گئی،اگر پارٹی مجھے فارغ کرنا چاہتی ہے، میرے اوپر الزام لگا کہ خان کی جگہ لینا چاہتا ہوں،میں اگر جگہ لینا چاہتا تو خوش آمد کرتا،خان نے علی ظفر کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر نامزد کیا۔

 

شبلی فراز نے کہا نہیں مجھے گرفتار نہیں کیا جائے گا مجھے اپوزیشن لیڈر بنائیں،دوسری جانب عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا،احتجاج کی زمہ داریوں سے علحیدگی کا اعلان کرتا ہوں،خان اگر کہے ایم این اے شپ سے استعفی دو تو ایک پل میں استعفی دیتا ہوں،بطور اختجاج ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرتا ہوں۔

 

میں اب اس جیل میں آوں گا جب خان کہے گا،تب اختجاج کروں گا جب عمران خان کہے گا ان کو میں لیڈر نہیں مانتا،سعودی سفیر نے بیان دیا یا نہیں مجھے یہ کمیٹی نہیں چاہئیے،کسی کو حق نہیں دے سکتا میری بے عزتی کی جائے،ہر معاملے پر عمران خان کو مس بریف کیا گیا،وکلاء شعیب شاہین اور انتظار پھنجوتا کے مشٹنڈے ہیں، شیر افضل مروت کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو  کی۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں