شیر افضل مروت کی کہانی

محمد ناصر صدیقی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیر افضل مروت کے بارے میں لکھا ہے

 

 

‏پچھلے تین دنوں سے ہمارا سارا فوکس نو مئی تھا اس لیے اس معاملے پہ کوئی بات نہیں کی مگر مستقبل کی سیاست کے لحاظ سے اس پیشرفت پہ بات کرنا ضروری ہے۔

‏شیر افضل مروت کے بارے میں ہر کوئی مختلف قیاس آرائیاں کرتا ہے ۔ کسی کو لگتا ہے جب سب چھپے ہوئے تھے تو اس نے ریلیاں نکالیں لہذا قیامت تک اس کے تمام بلنڈر معاف کر کے مرکزی عہدے اور فیصلہ سازی اس کے ہاتھ میں دے دی جائے کیونکہ باقی ساری قیادت کمپرومائز ہے۔

‏کچھ لوگوں کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں پہلے بھی ریلیاں نکلیں مگر ان پہ کریک ڈاؤن ہوا۔ صرف مروت کو اجازت تھی تاکہ اس کی امیج پروجیکشن کی جائے ۔ اس کےلیے کچھ مثالیں دی جاتی ہیں کہ شعیب شاہین کو بلوچستان جاتے ہوئے ایئرپورٹ پہ روکا جاتا ہے مگر مروت کو نہیں ، سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کےلیے باقی زیر عتاب آتے ہیں مگر مروت نہیں ۔ اسلام آباد میں احتجاج ہو تو کبھی شعیب شاہین کا گھر کا محاصرہ ہو جاتا تو کبھی گوہر کی گرفتاری کی کوشش ہوتی ہے مگر مروت کی کسی ریلی کو کبھی کریک ڈاؤن کا سامنا نہیں رہا ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ مروت کی امیج پروجیکشن کی گئی اور پھر اس پوزیشن کو تحریک انصاف کے اندر ابہام پیدا کرنے اور ورکر کو کنفیوژ اور مایوس کرنے کےلئے استعمال کیا گیا اور اسٹبلشمنٹ کو شیلڈ مہیا کی جاتی رہی۔ کچھ احباب کا خیال یہ بھی ہے کہ عمران خان کو اس کا پتہ تھا مگر اس نے بھی مروت کا صحیح استعمال کیا اور جب وہ پاؤں کاٹنے پہ آیا تو سائیڈ لائن کر دیا گیا۔

‏اگر ہم قیاس آرائیوں سے ہٹ کر زمینی حقائق پہ نظر دوڑائیں تو شیر افضل مروت کا گراؤنڈ پہ کردار بڑا شاندار رہا مگر یہ سچ ہے کہ اس کےلیے اسے کسی پریشانی کا سامنا نہیں رہا۔ اگر مروت کی پروجیکشن پلانٹڈ نہیں تھی تو پھر مروت کی جانب سے تمام پارٹی راہنماؤں سے پھڈوں کے پیچھے اس کی غیر سنجیدہ طبعیت ، شوخا پن اور احساس برتری شامل ہے کیونکہ وہ عمران خان کے بعد خود کو لیڈر مانتا ہے اور تمام ڈسپلن سے ماورا سمجھتا ہے۔ اس تناظر میں وہ شاید کور کمیٹی اور سیاسی فیصلوں میں بھی اپنا اتنا ہی کردار چاہتا تھا مگر جب وہ اسے نہیں ملا تو فرسٹریٹ ہو کر ہر ایک پہ چڑھائی کرتا گیا۔ جس نے بات کی اسے غدار ڈکلیئر کر دیا گیا۔ مروت کو یہ زعم بھی تھا کہ اس کی ذاتی فین فالونگ اس قدر ہے کہ وہ دیگر پارٹی راہنماؤں کو اپنے ایک بیان سے جھکا سکتا ہے مگر وہ بھول رہا تھا کہ پارٹی عمران خان سے ہے اور فالونگ عمران خان کی ہے۔ عمران خان نے کور کمیٹی خود بنائی ہے اور فیصلوں کی تائید عمران خان کی ہوتی ہے۔ سیاسی لحاظ سے عمر ایوب اور اس کے بعد شبلی فراز عمران خان کے منتخب کردہ سیاسی فیصلہ ساز ہیں جبکہ وکلاء رہنماؤں کی انوالمنٹ کا بھی ایک باقاعدہ میکانزم ہے۔ مروت مگر کسی میکنزم ، کسی ڈسپلن کا خود کو پابند نہ سمجھتا تھا جس کا خمیازہ پارٹی نے کئی دفعہ بھگتا ۔ میں تفصیلا کئی بار پوسٹ کر چکا ہوں کیسے بلے باز والا معاملہ ، سنی اتحاد کونسل سے اتحاد سمیت دیگر ایشوز پہ مروت نے جان بوجھ کر جھوٹ بول کر ورکر کو کنفیوژ کیا اور بعد ازاں خود ہی اعتراف کیا کہ خان کے احکامات کے مطابق سب کچھ ہوا ۔ اس نے میکانزم کو کمزوری بنا کر ورکرز کو کنفیوژ کیا کیونکہ خان کی ڈائریکشن حتمی نہیں ہوتی بلکہ کور کمیٹی میں ڈسکشن کے بعد خدشات اور تحفظات دوبارہ خان تک پہنچائے جاتے ہیں جس پہ کبھی وہ خود فیصلہ لیتے ہیں تو کبھی حتمی فیصلہ کور کمیٹی پہ چھوڑتے ہیں ۔ کئی مسائل پہ تین چار میٹنگز کے بعد حتمی فیصلہ ہوتا ہے مگر مروت نے ایسا تاثر دیا کہ خان غیر متعلقہ ہو چکا ہے اور اس کے فیصلوں کو کور کمیٹی نہیں مانتی۔ مروت اس دوران خود بھی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کا ممبر ہی رہا ہے۔

‏مروت کے تمام بلنڈرز کو خان نے جذباتی قرار دے کر معاف کرنے کی کوشش کی مگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پہ وہ جس طرح سپیکر کو منانے پہنچا ، گیلانی سے ملا اور خواجہ آصف سے میٹنگ کی تو اس سے پتہ چلا کہ عہدے کےلیے اس کی سوچ کس قدر چھوٹی ہے۔ خان نے خواجہ آصف سے ملنے پہ تو یہاں تک کہا کہ “آپ کو پارٹی سے نکال دینا چاہیے” ۔

‏ جو شخص ایک چھوٹے سے عہدے کےلیے ن لیگ کے سامنے بچھ گیا اس سے کیا توقع رکھنی۔

‏ لوگ مروت کو جذباتی قرار دیتے ہیں مگر دانستہ طور پہ ان جذبات کا استعمال ہمیشہ اپنی پارٹی پہ گولہ باری کی صورت میں ہوا اور اتفاق یہ ہے کہ اکثر ان اینکرز کے پروگرام میں ہوا جن کا تحریک انصاف بائیکاٹ کر چکی ہے ۔ مروت نے جذبات میں کبھی عاصم منیر کا نام نہیں لیا ، کبھی ندیم انجم کو نہیں چھیڑا ، کبھی ڈی جی کو شیٹ اپ کال نہیں دی۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کو ہمیشہ شیلڈ مہیا کرتا گیا۔ عاصم منیر امریکہ گیا تو خود ہی خان سے منسوب بیان چلا دیا کہ خان نے احتجاج سے منع کیا ہے جس کی بعد ازاں خان نے تردید کی لیکن جب سپیس

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں