اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس: عدالت نے علی امین گنڈا پور سے نو سوالات کے جواب طلب کر لیے۔

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس سے متعلق نو سوالات پر مشتمل سوالنامہ پیش کیا گیا ہے۔

 

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کے خلاف کیس کا جائزہ لیا گیا۔ عدالت نے انہیں نو مخصوص سوالات کے جواب دینے کی ہدایت کی ہے:

 

  1. کیا آپ نے سماعت کے دوران استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کو سمجھا؟
  2. 30 اکتوبر 2016 کو آپ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کے باوجود غیر قانونی اسمبلی میں شرکت کی۔ اس پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟
  3. آپ ایک سیاہ کار سے باہر نکلے، فرار ہونے کے لیے جنگل کا استعمال کیا، اور پولیس نے کار کو ضبط کر لیا۔ اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟
  4. آپ کی کار کی پچھلی سیٹ پر بلٹ پروف جیکٹ پہنے سیٹ گارڈ کے ساتھ ایک غیر لائسنس یافتہ بندوق ملی۔ آپ کا کیا جواب ہے؟
  5. آپ کی گاڑی سے غیر قانونی اسلحہ اور شراب کی بوتل برآمد ہوئی۔ اس پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟
  6. پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے کیمیائی تجزیے میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بوتل میں الکحل موجود تھا۔ اس تلاش پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟
  7. یہ مقدمہ آپ کے خلاف کیوں درج کیا گیا، اور استغاثہ کے گواہوں نے آپ کے خلاف گواہی کیوں دی؟
  8. کیا آپ دفعہ 340 کے تحت بطور گواہ اپنے دفاع میں بیان دینا چاہتے ہیں؟
  9. کیا آپ اپنے دفاع میں کوئی ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں یا کوئی بیان دینا چاہتے ہیں؟

 

عدالت نے علی امین گنڈا پور کو 20 مئی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں