سپریم کورٹ آف پاکستان میں سینیٹر فیصل واؤڈا اور ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال کے خلاف توہینِ عدالت از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

 

فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہوئے، سینیٹر فیصل واؤڈا کی جانب سے وکیل معیز احمد جبکہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے وکیل فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے۔

 

وکیل فروغ نسیم نے عدالت میں مصطفیٰ کمال کا معافی کا بیان پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کر کے توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کر دے۔

 

مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی استدعا مسترد

 

سپریم کورٹ نے مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی درخواست مسترد کر دی۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے ایک صفحے کے جواب میں معافی مانگی ہے۔ انہوں نے 16 مئی کی پریس کانفرنس پر معافی مانگی ہے جہاں انہوں نے زیرِ التواء اپیلوں سے متعلق میڈیا سے گفتگو کی تھی۔

 

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا یہ اپیلیں وفاقی شرعی عدالت میں نہیں ہیں؟ فیصل واؤڈا کے وکیل کہاں ہیں؟ اس موقع پر فیصل واؤڈا کے وکیل معیز احمد روسٹرم پر آ گئے۔

 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ پچھلی سماعت کا حکم نامہ دکھائیں۔ کیا مصطفیٰ کمال نے فیصل واؤڈا سے متاثر ہو کر دوسرے دن میڈیا سے گفتگو کی؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں۔

 

عدالتی رپورٹنگ پر پابندی پر پیمرا سے جواب طلب

 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیمرا نے عجیب قانون بنا دیا کہ عدالتی کارروائی رپورٹ نہیں ہو گی، یہ زیادتی ہے۔ سپریم کورٹ نے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی پر پیمرا سے جواب طلب کر لیا۔

 

فیصل واؤڈا کی میڈیا ٹاک پر بحث

 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واؤڈا سے سوال کیا کہ وہ پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے؟ کیا آپ نے کوئی قانون بدلنے کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا؟ سپریم کورٹ نے تمام ٹی وی چینلز کو توہین آمیز پریس کانفرنس نشر کرنے پر نوٹس جاری کر دیے اور دو ہفتوں میں جواب طلب کیا۔

 

سپریم کورٹ کا حکم نامہ

 

سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں اٹارنی جنرل کو دونوں پریس کانفرنسز کے ٹرانسکرپٹس سے توہین آمیز مواد کی نشاندہی کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ توہین آمیز مواد نشر کرنا بھی توہین میں آتا ہے۔

 

گزشتہ سماعت کا احوال

 

گزشتہ سماعت پر عدالت نے فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال کو بادی النظر میں توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا۔ مصطفیٰ کمال نے جواب میں غیر مشروط معافی مانگی تھی جبکہ فیصل واؤڈا نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کیس میں اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں