آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم کے تینوں صاحبزادے اسلام آباد سے گرفتار، تنویرالیاس کو رہا کر دیا گیا۔

 

اسلام آباد میں پولیس نے آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویرالیاس کو رہا کر دیا لیکن ایک مقدمے کے سلسلے میں ان کے تین بیٹوں کو حراست میں لے لیا۔ شیراز خان نامی شہری نے مارگلہ تھانے میں شکایت درج کرائی تھی کہ سردار تنویرالیاس کے بیٹوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

 

واقعہ کی تفصیلات:

 

مقدمہ کا اندراج: سردار تنویرالیاس کے بیٹوں کے خلاف مارگلہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

گرفتاری کی کوشش: جب پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو سردار تنویرالیاس نے مزاحمت کی جس کی وجہ سے اسے عارضی حراست میں لے لیا گیا۔

گرفتاریاں عمل میں آئیں: پولیس نے تنویرالیاس کے تین بیٹوں اور اس کے بھتیجے عفیف صغیر کو گرفتار کر لیا، جنہیں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

 

ردعمل:

 

پولیس کا بیان: پولیس ذرائع نے تصدیق کی کہ انہوں نے تنویرالیاس کو رہا کر دیا لیکن اس کے بیٹوں کی گرفتاری کے ساتھ کارروائی جاری رکھی۔

تنویرالیاس کے ترجمان: ترجمان نے پولیس کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف مقدمات بے بنیاد اور ہراساں کرنے کے مترادف ہیں۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں