لاہور ہائیکورٹ اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی دائر درخواست سیکرٹری دفاع اور وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا۔

 

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کے جواب میں سیکرٹری دفاع اور وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا۔

 

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں اظہر مشوانی کے والد قاضی حبیب الرحمان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

 

درخواست میں استدلال کیا گیا کہ اظہر مشوانی کے بھائیوں کو سادہ لباس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا، ان کی بازیابی کے لیے عدالت کی مداخلت کی ضرورت ہے۔

 

کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل ابوذر سلمان نیازی نے مبینہ گرفتاریوں کے دوران انٹیلی جنس افسران کی موجودگی کو نوٹ کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور وزارت داخلہ کو مدعا علیہ کے طور پر شامل کرنے پر زور دیا۔

 

جسٹس شہباز رضوی نے ڈی آئی جی سیکیورٹی ملک اویس کو مخاطب کرتے ہوئے محض زبانی یقین دہانیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ مجرموں کی شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ساتھ تعاون کریں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک تجزیہ کریں۔

 

وکیل نے مزید انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب سے رپورٹ طلب کی جس پر جسٹس شہباز رضوی نے جواب دیا کہ پچھلی رپورٹس پولیس حراست میں مغویوں کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتی تھیں۔ رپورٹس کی وشوسنییتا کے بارے میں وکیل کے خدشات کے باوجود جسٹس رضوی نے پولیس کے احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔

 

عدالت نے سیکرٹری دفاع اور وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی 13 جون تک ملتوی کر دی۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں