لاہور ہائی کورٹ میں ہتک عزت ایکٹ 2024 کو چیلنج ایک اور درخواست دائر۔

 

لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کے منظور کردہ ہتک عزت ایکٹ 2024 کو چیلنج کرتے ہوئے ایک اور درخواست دائر کر دی گئی۔ عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے قانون کی دفعہ 3، 5 اور 8 کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔

 

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں چیف سیکریٹری اور دیگر نے پنجاب حکومت کو شامل کیا ہے۔

 

درخواست گزار کا موقف تھا کہ حکومت نے ہتک عزت کا قانون آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاس کیا، اور اسے صحافیوں کے خلاف سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

درخواست میں عدالت سے ہتک عزت کے قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ میں بھی اسی طرح کی ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہتک عزت کا قانون موجودہ ہتک عزت آرڈیننس اور ایکٹ کے پیش نظر غیر آئینی اور بے کار ہے۔

 

درخواست میں عدالت سے کہا گیا کہ ہتک عزت کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے اور حتمی فیصلہ آنے تک اس پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب حکومت نے ہتک عزت بل 2024 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کا مطلب ہے کہ اسے پنجاب میں فوری طور پر نافذ کیا جائے گا۔

 

8 جون کو قائم مقام گورنر پنجاب ملک احمد خان نے ہتک عزت بل کی منظوری دی تھی۔

 

20 مئی کو اپوزیشن جماعتوں اور صحافتی تنظیموں کی مخالفت اور احتجاج کے باوجود صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی میں ہتک عزت بل 2024 منظور کر لیا۔

 

بل کے اہم نکات:

ہتک عزت بل 2024 میں ٹی وی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب اور انسٹاگرام کے لیے سزائیں شامل ہیں۔

مقدمات کو نمٹانے کے لیے ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے، جن کے پاس 180 دنوں کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم ہے۔

ہائی کورٹ کے بنچ آئینی عہدوں پر فائز افراد سے متعلق معاملات کو حل کریں گے۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں