امریکہ اور ایران کے درمیان جو جنگ فروری کے آخر میں شروع ہوئی، وہ صرف دو ملکوں کی لڑائی نہیں رہی۔ چھ ہفتے گزر چکے ہیں اور اب یہ لڑائی پوری دنیا کی معیشت، توانائی اور سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ آبنائے ہرمز بند پڑی ہے، تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، اور واشنگٹن سے تہران تک دھمکیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس پورے شور میں ایک خاموش سی کہانی اسلام آباد سے جنم لے رہی ہے جسے دنیا نے ابھی پوری طرح سمجھا نہیں۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کون کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ Marco، JD اور کچھ اور لوگ اس کام میں لگے ہیں۔ یہ پہلی بار تھا جب JD Vance کا نام سرکاری طور پر اس سفارتی کوشش سے جوڑا گیا۔ لیکن پردے کے پیچھے کیا ہو رہا تھا، وہ اس ایک جملے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر جاگ کر JD Vance، Steve Witkoff اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ بات کی۔ ایک طرف واشنگٹن تھا جو ڈیڈلائن دے رہا تھا، دوسری طرف تہران تھا جو کسی بھی دباؤ میں آنے سے انکار کر رہا تھا، اور بیچ میں اسلام آباد تھا جو دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ ایک پاکستانی اہلکار نے اسے “frantic diplomacy” کہا ، یعنی ہاتھ پاؤں مار کر کی جانے والی سفارت کاری۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان اس کھیل میں آیا کیوں۔ 29 مارچ کو اسلام آباد میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ اکٹھے ہوئے، اور اس سے پہلے 19 مارچ کو ریاض میں بھی مشاورت ہو چکی تھی۔ یعنی یہ کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ہفتوں کی محنت کا نتیجہ تھا۔ پاکستان نے خود کو اس مقام پر رکھا جہاں وہ دونوں فریقوں سے بات کر سکے ، اور یہ آسان نہیں تھا۔ اس وقت پاکستان ہی دونوں طرف واحد رابطہ کا ذریعہ ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایران نے Vance کو کیوں قبول کیا جبکہ باقی امریکی اہلکاروں سے وہ بات تک نہیں کرنا چاہتا؟ اس کا جواب سمجھنے کے لیے فروری کی اس رات کو یاد کرنا پڑے گا جب جنیوا میں مذاکرات چل رہے تھے اور اچانک بم گرنے شروع ہو گئے۔ ایران نے یہ نتیجہ نکالا کہ Witkoff اور Kushner کے ساتھ جو مذاکرات ہوئے وہ دراصل امریکی فوج کو تیاری کا وقت دینے کی ایک چال تھی۔ اس کے بعد ایران نے ان دونوں سے کسی بھی رابطے سے انکار کر دیا۔
Vance اس سارے معاملے میں کہیں نہیں تھا۔ فروری کے حملوں سے پہلے جو مذاکرات ہوئے، Vance ان میں شامل نہیں تھا۔ اور 2024 میں وہ یہ کہہ چکا تھا کہ ایران سے جنگ امریکہ کے لیے ایک بڑی غلطی ہوگی۔ تہران کی نظر میں اس کے ہاتھ اس خون سے رنگے نہیں — کم از کم ابھی تک۔
اس میں ایک اور پرت بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ Vance کو 2028 کی صدارتی دوڑ کا سب سے بڑا امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ تہران یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک ذمہ دار شخصیت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جس نے جنگ رکوانے کی کوشش کی۔ سیاست میں جب کسی کا ذاتی مفاد امن میں ہو تو وہ بات چیت میں زیادہ مخلص ہوتا ہے — ایران نے یہ حساب لگایا ہے اور غلط نہیں لگایا۔
جو فریم ورک تیار ہوا اسے “اسلام آباد اکارڈ” کہا جا رہا ہے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کھلے اور جنگ بندی ہو، پھر 15 سے 20 دنوں میں کوئی مستقل حل نکالا جائے۔ آخر میں ایران جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو اور بدلے میں پابندیاں ہٹیں اور اس کے منجمد اثاثے واپس ملیں۔ کاغذ پر یہ خوبصورت لگتا ہے۔ حقیقت میں اتنا سادہ نہیں۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی 15 نکاتی منصوبے کو “انتہائی مہتواکانکشی اور غیر منطقی” قرار دیا۔ ادھر ٹرمپ نے لکھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب مٹ سکتی ہے۔ یہ الفاظ کسی سنجیدہ مذاکرات کے ماحول میں نہیں کہے جاتے، لیکن یہی اس پورے بحران کا المیہ ہے کہ ایک طرف بمباری، دوسری طرف سوشل میڈیا کی آگ، اور تیسری طرف خاموش سفارت کاری، تینوں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ سب کچھ محض ایک سفارتی کامیابی کا موقع نہیں۔ اگر یہ جنگ رکی تو اسلام آباد کو وہ اعتبار ملے گا جو برسوں کی کوشش سے نہیں ملتا۔ اور اگر نہ رکی اور آبنائے ہرمز بند رہی تو پاکستان خود اس کی قیمت چکائے گا ، توانائی کی قیمتوں میں، مہنگائی میں، اور اس معیشت میں جو پہلے سے ہچکولے کھا رہی ہے۔ ایران کے پاکستان میں سفیر نے اشارہ دیا کہ یہ کوششیں ایک نازک اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ یہ چھوٹا سا جملہ اہم ہے ، ایرانی سفارت کار اس طرح تب بولتے ہیں جب کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔
آخر میں بات وہیں آتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ ایک رات جس میں ایک پاکستانی جنرل نے دو متحارب طاقتوں کے درمیان پل بنانے کی کوشش کی — نہ اس لیے کہ پاکستان کوئی سپر پاور ہے، بلکہ اس لیے کہ شاید اس وقت یہی واحد کردار تھا جو اسے ادا کرنا تھا۔ تاریخ میں امن کا کام اکثر طاقتور نہیں کرتے، وہ کرتے ہیں جن کے پاس کھونے کو بہت کچھ ہو اور جن پر ابھی کسی کو شک نہ ہو۔ پاکستان اس وقت دونوں شرطیں پوری کرتا ہے۔
عمران خان کی بینائی چھیننے کی کوشش؟ اڈیالہ جیل میں طبی غفلت اور قیدِ تنہائی…
ایک بچہ اپنے باپ کو بہت تنگ کر رہا تھا۔ باپ پڑھائی میں مصروف تھا…
رواں مالی سال کا معاشی جائزہ: ایک تفصیلی نظر پاکستان کی معیشت کو رواں مالی…
عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا کھیل امریکہ اور ایران کے درمیان…
عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت تحریک انصاف کے کئی اسیران تقریباً تین سال سے…
ایران کا پاکستان میں مذاکرات سے انکار تازہ ترین سفارتی پیش رفت کے مطابق، ایران…
This website uses cookies.