اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک ٹویٹ اتنا وائرل ہوا کہ ان کی انتظامیہ کے لیے مصیبت کھڑی ہوگئی۔ یہ ٹویٹ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی سے متعلق تھا، لیکن اصل اُلجھن اس کی ’ترمیمی ہسٹری‘ نے پیدا کر دی۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ 7 اپریل 2026 کی دیر رات شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارفم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کی۔ اس پوسٹ میں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے دو ہفتے کی جنگ بندی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی۔
لیکن چند ہی منٹوں بعد جب لوگوں نے اس پوسٹ کی ایڈٹ ہسٹری دیکھی تو سب حیران رہ گئے۔ اصل میں شہباز شریف نے پہلے وہی سب کچھ کاپی پیسٹ کر دیا تھا جو انہیں بھیجا گیا تھا، جس میں “Draft – Pakistan’s PM Message on X”(مسودہ – پاکستان کے وزیر اعظم کا ایکس پر پیغام) کی ہیڈنگ بھی شامل تھی۔
یقیناً کوئی بھی اپنے عملے کا رکن اپنے مالک کو ’پاکستان کے وزیر اعظم‘ کہہ کر مخاطب نہیں کرتا۔ اس معمولی سی غلطی نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ یہ ٹویٹ شاید خود شہباز شریف یا ان کی ٹیم نے نہیں لکھی، بلکہ باہر سے بھیجی گئی تھی۔
یہ غلطی اتنی بڑی تھی کہ امریکی صحافی ریان گرائم نے بھی اس پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے جو کچھ انہیں بھیجا گیا، ویسے کا ویسا ہی کاپی پیسٹ کر دیا، جس میں یہ ’ڈرافٹ‘ والا جملہ بھی تھا۔
اس پر سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں تیز ہوگئیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ٹویٹ امریکی یا اسرائیلی حکومت کی طرف سے لکھ کر بھیجی گئی تھی، جسے شہباز شریف نے بغیر پروف ریڈ کیے پبلش کر دیا۔ ایک صارف نے تو طنزیہ انداز میں کہا کہ ’اب پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی ٹریک چینجز کے ساتھ آتی ہے‘۔
شہباز شریف کے اس ٹویٹ کے چند ہی گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ امریکہ اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بات کرنے کے بعد ایران پر حملے روک دیے ہیں۔
یہاں ایک اور اُلجھن پیدا ہوگئی۔ شہباز شریف نے اپنے اگلے ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ ’ایران اور امریکہ نے لبنان سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے‘، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔
اس سے یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا پاکستان واقعی اس تنازعے میں ثالث ہے، یا محض ایک ’میسنجر‘ کا کردار ادا کر رہا ہے؟ صارفین نے شہباز شریف کو ’امریکہ کا پیپٹ‘ اور ’فارورڈنگ ایجنٹ‘ جیسے طنزیہ القابات سے نوازا۔
یہ واقعہ اگرچہ ایک معمولی سی کاپی پیسٹ کی غلطی لگتا ہے، لیکن اس نے پاکستان کی اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر پیشہ ورانہ مہارت پر سنگین سوالیہ نشان ضرور کھڑا کر دیا ہے۔
یہ تو طے ہے کہ شہباز شریف کا ٹویٹ ان کی اپنی تحریر نہیں تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ معمول کی ’اسپننگ‘ تھی، یا پھر واقعی یہ پیغام کسی بیرونی طاقت نے لکھ کر پاکستانی وزیر اعظم کے ہاتھوں پبلش کروایا؟ شہباز شریف کی انتظامیہ کی طرف سے اس ’ڈرافٹ‘ پر کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی، جس سے لوگوں کے شکوک مزید بڑھ گئے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود، ایران اور…
پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے…
عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات تعارف پاکستان کی حالیہ…
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک…
🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار…
معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف معروف قاری سید صداقت علی…
This website uses cookies.