تہران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کو محض ایک “عارضی وقفہ” قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ یہ تنازع کا حقیقی خاتمہ نہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے تمام فوجی یونٹس کو فوری طور پر رُک جانے کا حکم دے دیا ہے، لیکن ساتھ ہی الرٹ جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق، یہ حکم تمام عسکری شاخوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ تاہم، ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ “ہمارے ہاتھ اب بھی ٹریگر پر ہیں، اور دشمن کی معمولی سی غلطی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔“
اہم پیش رفت یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ ابتدائی طور پر یہ مذاکرات دو ہفتے جاری رہیں گے، تاہم ایرانی حکام نے اس میں توسیع کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا۔
اسلام آباد کا انتخاب بطور میزبانی شہر اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں خطے میں ثالث کے طور پر اپنا کردار بڑھایا ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات اس ثالثی کو ممکن بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایرانی حکام نے جنگ بندی کو اپنے انداز میں پیش کرتے ہوئے اسے “دشمن کی میدانِ جنگ میں پسپائی” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات سیاسی کامیابی میں تبدیل ہوتے ہیں تو اسے ایران کی “تاریخی فتح” تصور کیا جائے گا۔
دوسری طرف، اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایرانی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ اپنی سابقہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ یہ دوہری حکمت عملی ایران کی جانب سے ایک طرف ڈپلومیسی کا موقع دینے اور دوسری طرف فوجی تیاریاں برقرار رکھنے کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایران کا یہ مؤقف دراصل اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ایک دانستہ حکمت عملی ہے۔ جنگ بندی کو “عارضی” کہہ کر ایران نے داخلی سطح پر اپنی سخت گیر قوتوں کو مطمئن رکھا ہے، جبکہ بیرونی سطح پر امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی غلطی نئے تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ الفاظ خاص طور پر اہم ہیں: “جنگ بندی کا مطلب جنگ کا اختتام نہیں۔” اس جملے سے واضح ہے کہ تہران ابھی بھی اپنے دفاعی اور جارحانہ آپشنز کو میز پر رکھے ہوئے ہے۔
آنے والے دنوں میں اسلام آباد مذاکرات اس تنازع کی سمت کا تعین کریں گے۔ اگر ایران اپنی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ واقعی ایک تاریخی فتح ہوگی، ورنہ خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے لیے طے پانے والے یہ مذاکرات کسی بڑے معاہدے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں یا پھر جنگ کے ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے کا آغاز۔فی الحال، ایران نے اپنے مؤقف سے واضح کر دیا ہے کہ وہ دونوں صورتوں کے لیے تیار ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود، ایران اور…
پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے…
عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات تعارف پاکستان کی حالیہ…
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک…
🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار…
معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف معروف قاری سید صداقت علی…
This website uses cookies.