آج کل اسلام آباد کی فضاؤں میں کافی گہما گہمی ہے۔ ایک طرف شہر لاک ڈاؤن ہے، لڑاکا طیارے فضا میں گشت کر رہے ہیں اور دوسری طرف دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہیں کہ کیا یہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بڑی برف پگھلنے والی ہے؟ سبی کاظمی کے حالیہ تجزیے کے مطابق، یہ صورتحال جتنی سادہ نظر آتی ہے، حقیقت میں اتنی ہی پیچیدہ ہے۔
اسلام آباد کو دلہن کی طرح سجایا گیا ہے، جناح کنونشن سینٹر تیار ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ امریکی نائب صدر اور ان کی ٹیم کی آمد کی خبریں تو گرم ہیں، لیکن ابھی تک ایرانی وفد کی طرف سے کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایران کا موقف بڑا واضح ہے: جب تک لبنان پر بمباری بند نہیں ہوتی، مذاکرات کی میز پر بیٹھنا مشکل ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، جو کبھی ایران پر سخت پابندیوں کے حامی تھے، اب ایران کی جیت اور عالمی طاقت کے توازن کو تسلیم کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ “دنیا کا نظام ری سیٹ ہو رہا ہے”، اس بات کی نشاندہی ہے کہ اب طاقت کا مرکز بدل رہا ہے اور ایران کو نظر انداز کرنا اب کسی کے بس میں نہیں۔
اگرچہ سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں، لیکن ایران کے اندر ‘پاسدارانِ انقلاب’ اس وقت مذاکرات کے حق میں نظر نہیں آتے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنا دھوکہ کھانے کے مترادف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ مذاکرات کے نام پر صرف وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنگی تیاری مکمل کر سکے۔ جب تک زمین پر حالات نہیں بدلتے، ایران کی یہ اصل طاقت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
اس ساری جنگ اور کھینچا تانی کا اثر براہِ راست دنیا کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ ابنائے ہرمز پر ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے کروڑوں بیرل تیل پھنسا ہوا ہے۔ ایران نے جو ‘محصول چونگی’ لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے، اس سے امریکی ڈالر کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی حال رہا تو ڈالر کی قیمت میں مزید بڑی کمی آ سکتی ہے، جو کہ عالمی معیشت کے لیے کسی زلزلے سے کم نہیں ہوگی۔
پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف حکومت عالمی سطح پر اپنا امیج بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری طرف عوام کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ان مذاکرات کا اثر ملکی سیاست اور خاص طور پر عمران خان کی رہائی پر کیا پڑے گا۔ تجزیے کے مطابق، عالمی طاقتیں فی الحال پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتی نظر نہیں آتیں، ان کی تمام تر توجہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر ہے۔
سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ کا پاکستان پہنچنا اور عرب ممالک کی بدلتی ہوئی پالیسیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ہر کوئی اب امن چاہتا ہے۔ لیکن سوال وہی ہے کہ کیا اسرائیل اور امریکہ ایران کی شرائط مانیں گے؟ اور کیا ایران ان وعدوں پر یقین کرے گا جو ماضی میں کئی بار ٹوٹ چکے ہیں؟
نتیجہ:
اسلام آباد میں سجنے والی یہ محفل دنیا کو ایک نئے راستے پر ڈال سکتی ہے، بشرطیکہ تمام فریقین خلوصِ نیت کے ساتھ میز پر بیٹھیں۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ وقت صبر اور گہری نظر رکھنے کا ہے، کیونکہ عالمی بساط پر ہونے والی ہر تبدیلی کے اثرات ہمارے گھروں تک پہنچتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود، ایران اور…
پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے…
عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات تعارف پاکستان کی حالیہ…
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک…
🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار…
معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف معروف قاری سید صداقت علی…
This website uses cookies.