امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران جوہری ہتھیار بنانے کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی اور امریکی دھمکیوں کے بعد ایرانی سائنسدان مزید متحرک ہو گئے ہیں اور ایران کی جانب سے ایک نئے اور خطرناک “شاہکار ہتھیار” کا پہلا ٹریلر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، پوپ کی طرف سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کی مبینہ حمایت پر ٹرمپ نے شدید ردعمل دیا ہے اور ان پر کڑی تنقید کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معاشی ناکہ بندی کے لیے صبح 10 بجے سے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایران کی تیل کی ترسیل روکی جا سکے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن کی تباہی کے بعد اب امریکہ نے “جارج ڈبلیو بش” نامی ایک بہت بڑا بحری بیڑا مڈل ایسٹ میں اتار دیا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دن میں ایران کی تنصیبات اور بجلی گھر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایران کو اپنی شرائط پر مذاکرات کرنے پر مجبور کریں گے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں اور ان میں اچانک 10 ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وال سٹریٹ کے شیئرز بری طرح گر چکے ہیں، جبکہ ایشیائی مارکیٹس جن میں ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں، شدید مندی کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس معاشی بحران کے اثرات سے مزید 4 کروڑ لوگ خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں اور عالمی سپلائی چین مکمل طور پر درہم برہم ہو چکی ہے۔
اس انتہائی کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن آبنائے ہرمز میں پاکستان کے اپنے دو تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ملی اور انہیں وارننگ دے کر روک دیا گیا۔ دریں اثنا، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے راؤنڈ کا آغاز 22 اپریل سے ہونے کا امکان ہے۔
عالمی سطح پر تیزی سے نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین اور شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان سے ملاقات کی خبریں ہیں، تو دوسری جانب چینی وزیر خارجہ ایک اہم دعوت نامہ لے کر شمالی کوریا پہنچ گئے ہیں۔ ایران کے معاملے میں امریکہ کو پیچھے دھکیلنے کے بعد اب چین کی اگلی نظریں گرین لینڈ پر ہیں۔ اس صورتحال میں ہسپانوی وزیراعظم نے چین کا دورہ کر کے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ کے خلاف چین سے مدد کی اپیل کی ہے۔
پاکستان کے داخلی محاذ پر بھی زبردست سیاسی ہلچل جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے اہم دورے پر ہیں، جس میں ملکی قیادت ان کے ہمراہ ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن کے لیے موجودہ حالات نہایت سازگار ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے معاملے پر بے بس نظر آ رہی ہے۔ 69 سالہ سینئر رہنما اعجاز چوہدری کو ہسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے، جو سیاسی حلقوں میں تشویش کا باعث ہے۔
تجزیے کے مطابق، پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت جن میں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ شامل ہیں، ان پر سے عوام کا اعتماد کمزور پڑا ہے لیکن عوام کے پاس عمران خان کی وجہ سے کوئی اور سیاسی راستہ نہیں ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ کہیں وہ موجودہ لیڈرشپ کو ہٹانے کا براہ راست حکم جاری نہ کر دیں۔ دوسری جانب سہیل آفریدی کے ایک بڑے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں، اگر یہ جلسہ کامیاب ہوتا ہے اور نوجوان اس کے ساتھ جڑتے ہیں تو پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود، ایران اور…
پی ٹی آئی میں تنظیمی تبدیلیاں: سلمان اکرم راجہ کا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے…
عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات تعارف پاکستان کی حالیہ…
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک…
🚨 حکومتی ادارے سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار…
معروف قاری سید صداقت علی پر مبینہ تشدد کا انکشاف معروف قاری سید صداقت علی…
This website uses cookies.