پاکستان کے عام انتخابات 2024 کے حوالے سے بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے خدشات بالآخر ایک باضابطہ دستاویز کی شکل میں سامنے آ گئے ہیں۔ کامن ویلتھ (دولتِ مشترکہ) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ مشاہداتی رپورٹ نے پاکستان کے انتخابی عمل کی شفافیت پر وہ تمام سوالات اٹھا دیے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث تھے۔ اس رپورٹ نے نہ صرف ملکی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی موجودہ حکومت کی جمہوری ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ رپورٹ محض ایک تنقیدی تبصرہ نہیں ہے، بلکہ ان کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی ہے جنہوں نے 8 فروری کو اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی۔
پاکستان میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات اپنی نوعیت کے منفرد انتخابات تھے، جہاں ایک طرف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت، پاکستان تحریک انصاف (PTI)، کو انتخابی نشان سے محروم کر کے اسے سیاسی عمل سے باہر رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی، تو دوسری طرف انتخابی مہم کے دوران قیادت کی گرفتاریوں اور کارکنوں پر کریک ڈاؤن کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہا۔ انتخابات کے روز ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش نے شکوک و شبہات کو جنم دیا، اور پھر راتوں رات نتائج کی تبدیلی (فارم 45 بمقابلہ فارم 47 کا تنازعہ) نے عوامی مینڈیٹ کی توہین کے الزامات کو مزید تقویت دی۔ کامن ویلتھ جیسے معتبر ادارے کی رپورٹ ان تمام واقعات کا ایک غیر جانبدارانہ جائزہ پیش کرتی ہے جو اس حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان معاشی اور سیاسی طور پر انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔
کامن ویلتھ کی اس تازہ رپورٹ میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ 2024 کے انتخابات میں برابری کی سطح (Level Playing Field) کا مکمل فقدان تھا۔ رپورٹ کے مطابق، انتخابی عمل کے دوران ریاستی مشینری کا استعمال ایک خاص سمت میں ہوتا نظر آیا۔ مبصرین نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح ملک کی مقبول ترین سیاسی قیادت کو جیلوں میں ڈال کر اور پارٹی ڈھانچے کو کمزور کر کے عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ میں خاص طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کردار اور نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، انتخابی نتائج کی تدوین میں شفافیت کے عالمی معیارات کو برقرار نہیں رکھا گیا، جس کی وجہ سے انتخابی نتائج کی قانونی اور اخلاقی حیثیت مجروح ہوئی۔ یہ رپورٹ ان دعووں کی تصدیق کرتی ہے کہ انتخابی رات کو ہونے والے “جادوئی نتائج” نے حقیقی عوامی نمائندگی کو مصنوعی قیادت سے بدل دیا۔
اس رپورٹ کے سیاسی اور سماجی اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کا یہ بیانیہ کہ ان کا “مینڈیٹ چوری” کیا گیا ہے، اب محض ایک سیاسی الزام نہیں رہا بلکہ اسے بین الاقوامی توثیق حاصل ہو گئی ہے۔ عوامی سطح پر اس رپورٹ نے موجودہ حکومتی اتحاد کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں، کیونکہ عوام کی نظر میں ان کی حیثیت ایک ایسے ڈھانچے کی ہے جو عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ “جوڑ توڑ” کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سیاسی عدم استحکام کا براہ راست اثر غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکی کرنسی پر پڑتا ہے۔ جب بین الاقوامی ادارے یہ کہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل خطرے میں ہے، تو سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگراموں پر انحصار کر رہا ہے، اور ایسی رپورٹس عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے پاکستان کا کیس کمزور کر سکتی ہیں۔ عوامی سطح پر غم و غصہ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ایک طرف ان کا ووٹ چھینا گیا اور دوسری طرف وہی غیر نمائندہ حکومت اب ان پر مہنگائی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔
کامن ویلتھ کی یہ رپورٹ پاکستان کے مقتدر حلقوں اور سیاسی قیادت کے لیے ایک ویک اپ کال (Wake-up Call) ہے۔ جمہوریت محض انتخابات کروانے کا نام نہیں، بلکہ عوامی رائے کے احترام اور اس کی شفاف عکاسی کا نام ہے۔ جب تک ملک میں حقیقی عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور فارم 45 کے مطابق نتائج کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا، تب تک سیاسی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔
موجودہ صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ان تمام بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائیں جن کا ذکر کامن ویلتھ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جس کے پیچھے عوامی طاقت اور قانونی جواز موجود ہو۔ اگر عوامی مینڈیٹ کی توہین کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا، تو ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ملک کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ نظام کو “سلیکشن” کے بجائے “الیکشن” کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔
عالمی اور ملکی سیاست کے اہم واقعات کا تفصیلی جائزہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال: آبنائے…
ہمیں اچانک ایک پاکستانی unknown نمبر سے کال آئی جسے خوش قسمتی سے قاسم خان…
ایران اور امریکہ کشیدگی: آبنائے ہرمز کا دوبارہ محاصرہ تازہ ترین عالمی صورتحال کے مطابق…
کسانوں کا معاشی قتل؛ حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج تعارف پاکستان کی معیشت…
ایران کی بڑی سفارتی کامیابی اور آبنائے ہرمز کی بحالی حالیہ بین الاقوامی مذاکرات کے…
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور پاکستانی ٹینکر کا عبور: کیا پاکستان کسی نئے…
This website uses cookies.