امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل کے ذریعے بھیجی گئی مذاکرات کی پیشکش کو ایران نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد امن کی تمام کوششیں دم توڑ گئی ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ ‘جیرالڈ فورڈ’ بحیرہ احمر میں پہنچ چکا ہے اور امریکی نیوی کے ساتھ اب بھارتی نیوی بھی شامل ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب عالمی جنگ کے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ فلائٹ ریڈار پر مشرق وسطیٰ میں جنگی جہازوں کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے، جو کسی ممکنہ بڑے حملے کی منصوبہ بندی کا اشارہ ہے۔ دوسری طرف، ایران نے بھی اپنی جنگی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ایران کی جانب سے اپریل اور مئی کی تازہ میزائل کھیپ کا استعمال کیا جا سکتا ہے، اور غزہ سے بھی میزائل فائر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس ساری صورتحال پر غور کے لیے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں رات گئے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں اسرائیلی وفد بھی شریک تھا۔
پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات بھی ایک نئے موڑ پر کھڑے ہیں اور بظاہر موجودہ سیٹ اپ کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ پاکستانی حکومت سے دور رہیں، اسے ایک ‘ریڈ فلیگ’ اور امریکہ کے لیے بوجھ قرار دیا گیا ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے خاصے پریشان ہیں۔
ملکی سیاست میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ ان کا بستر گول کیا جا رہا ہے اور صدر آصف علی زرداری کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اب نئے صدرِ مملکت کے نام کے حوالے سے مشاورت شروع ہو گئی ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے معاملے پر تحریک انصاف نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور مردان میں ایک بڑا پاور شو کیا جا رہا ہے۔
موجودہ مشکل حالات میں عمران خان کے دونوں بیٹے، قاسم اور سلیمان، بین الاقوامی سطح پر اپنے والد کی بے گناہی کی مہم بڑی خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں۔ ان کی کوئی سیاسی تربیت نہیں اور نہ ہی ان کا پاکستان میں کوئی سیاسی عہدہ لینے کا ارادہ ہے، لیکن خون کے رشتے کے ناطے وہ عالمی اداروں کو قانونی اور اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے انٹرویوز دے رہے ہیں اور اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو کام تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کو کرنا چاہیے تھا جن کے پاس وسائل، شہرت اور اختیارات موجود ہیں، وہ کام اس وقت بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کر رہے ہیں۔ قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو بہتر بنائے، میدان میں اپنا عملی کردار ادا کرے اور عوام کی توقعات پر پورا اترے۔
امریکی عوام کی منشا کے خلاف مسلط کی گئی جنگ امریکہ کی سابق نائب صدر…
ایران جنگ کے اثرات: پاکستان میں طویل بلیک آؤٹ اور توانائی کا شدید بحران تعارف…
تارکین وطن کی ہلاکتوں پر میکسیکو کے صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید…
بشریٰ بی بی کی ضمانت اور طبی بنیادوں پر رہائی کی درخواست: قانونی تقاضے اور…
عالمی اور ملکی سیاست کے اہم واقعات کا تفصیلی جائزہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال: آبنائے…
ہمیں اچانک ایک پاکستانی unknown نمبر سے کال آئی جسے خوش قسمتی سے قاسم خان…
This website uses cookies.