تازہ ترین

اسلام آباد: 12 روزہ بندش کے بعد سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون ٹریفک کے لیے بحال

اسلام آباد: 12 روزہ بندش کے بعد سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون ٹریفک کے لیے بحال

تعارف

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بالاخر ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مسلسل 12 روز کی سخت سیکیورٹی بندش، کنٹینرز کی بھرمار اور ٹریفک کے متبادل راستوں کے اذیت ناک سفر کے بعد، سیرینا ہوٹل چوک اور ریڈ زون کے تمام اہم راستے عوام اور ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کی جانب سے اس پیش رفت کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جڑواں شہروں (اسلام آباد اور راولپنڈی) کے باسیوں کا پارہ انتظامیہ کی ناقص ٹریفک مینجمنٹ پر ہائی ہو چکا تھا اور کاروباری سرگرمیاں عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھیں۔

پس منظر

اس طویل بندش کی بنیادی وجہ اسلام آباد میں ہونے والی انتہائی حساس اور ہائی پروفائل سفارتی سرگرمیاں تھیں۔ گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔ ان عالمی وفود کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے روایتی طریقہ کار اپناتے ہوئے دارالحکومت کے انتہائی اہم اور مرکزی حصوں، بالخصوص ڈپلومیٹک انکلیو، سیرینا ہوٹل اور شاہراہِ دستور (ریڈ زون) کو عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر سیل کر دیا تھا۔ اس مقصد کے لیے بھاری تعداد میں کنٹینرز کھڑے کیے گئے اور شہریوں کو طویل اور دشوار گزار متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اگرچہ قومی سلامتی اور غیر ملکی مہمانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہوتی ہے، لیکن اس کے لیے اپنایا گیا طریقہ کار جدید شہری تقاضوں سے یکسر ہم آہنگ نہیں تھا۔

حالیہ صورتحال

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، سفارتی وفود کی واپسی اور ہائی الرٹ سیکیورٹی پروٹوکولز کے خاتمے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے رات گئے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع کیا جو اب مکمل ہو چکا ہے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے کہ سیرینا چوک، ڈی چوک، نادرا چوک اور ریڈ زون کو ملانے والی تمام ملحقہ شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ، اسکول کی بسیں اور نجی گاڑیاں اب اپنے معمول کے راستوں پر رواں دواں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس علاقے میں موجود نجی دفاتر، سرکاری محکموں اور تجارتی مراکز میں بھی حاضری اور کام کا معمول بحال ہو گیا ہے، جس سے پورے شہر میں ایک طمانیت کا احساس پایا جاتا ہے۔

تجزیہ / عوامی اثرات

ایک معروضی صحافتی اور تجزیاتی زاویے سے اس 12 روزہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حکومتی اور انتظامی کارکردگی پر کئی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا عالمی سطح پر امن مذاکرات کی میزبانی کرنا ایک سفارتی کامیابی ہے، لیکن کیا اس کامیابی کی قیمت عام شہریوں کو اپنے روزگار، تعلیم اور ذہنی سکون کی قربانی دے کر چکانی چاہیے؟ مسلسل 12 دن تک ملک کے دارالحکومت کا مرکزی حصہ بند رہنے سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں کا کروڑوں روپے کا معاشی نقصان ہوا، بلکہ ایمبولینسز کا ٹریفک میں پھنسنا اور طلباء کا امتحانات یا کلاسز کے لیے وقت پر نہ پہنچ پانا ایک المیہ رہا۔

حکومتی پالیسیوں میں یہ کمزوری واضح طور پر نظر آتی ہے کہ ہمارے پاس وی آئی پی (VIP) موومنٹ یا حساس سفارتی سرگرمیوں کو ہینڈل کرنے کے لیے آج بھی کوئی جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی سیکیورٹی میکانزم موجود نہیں ہے۔ جدید دنیا میں دارالحکومتوں کو یوں کنٹینرز لگا کر بند نہیں کیا جاتا۔ عوام میں اس حوالے سے شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اور سوشل میڈیا سمیت مختلف عوامی فورمز پر انتظامیہ کے اس فرسودہ طرزِ عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی اس غیر اعلانیہ کرفیو نما صورتحال کو حکومت کی انتظامی ناکامی اور عوام سے دوری کی ایک اور مثال قرار دیا گیا ہے۔

نتیجہ

اگرچہ 12 روزہ بندش کے بعد سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون کی بحالی جڑواں شہروں کے باسیوں کے لیے ایک خوش آئند خبر اور بڑا ریلیف ہے، لیکن یہ واقعہ ریاستی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہونا چاہیے۔ ایک ترقی پذیر معیشت اس طرح کے طویل اور بے ہنگم لاک ڈاؤنز کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس اور اسمارٹ سیکیورٹی پروٹوکولز پر سرمایہ کاری کرے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ملکی یا بین الاقوامی ایونٹ کی صورت میں دارالحکومت کو ‘شہرِ خموشاں’ میں تبدیل کرنے کے بجائے معمول کی زندگی کو متاثر کیے بغیر سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے جا سکیں۔ ریاست کا وقار اس میں نہیں کہ عوام کو راستوں سے ہٹا دیا جائے، بلکہ اس میں ہے کہ سیکیورٹی اور شہری آزادیوں کا ایک بہترین توازن قائم کیا جائے۔

شیئر کریں
Admin 2

Recent Posts

عالمی اور ملکی سیاست کے بدلتے رنگ: امریکہ، ایران کشیدگی اور پاکستان کے معاشی و سیاسی چیلنجز

امریکی الیکشن اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن سے قبل…

4 hours ago

عمران خان کیوں ضروری ہے؟ پاکستان کی ایکسپورٹس کا مختلف ادوار میں تقابلی جائزه

پاکستان کی ایکسپورٹس کی صورتحال: ایک تفصیلی جائزہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا…

4 hours ago

پاکستان کرکٹ ٹیم کی وائٹ بال سیریز کے لیے بھرپور تیاریاں، کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ اور تربیتی کیمپ کا آغاز

پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے آئندہ وائٹ بال سیریز کے لیے قومی ٹیم کی تیاریوں…

6 hours ago

ہم ایران کا معاملہ جلدی ختم نہیں کریں گے تاکہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہ ہو، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے…

20 hours ago

ایران کی نئی تجاویز: جنگ کے مستقل خاتمے اور پابندیاں ہٹانے کے لیے پاکستان کے ذریعے بڑی پیشکش

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید تناؤ کو کم کرنے کے لیے تہران نے…

20 hours ago

پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہو گی؟ رویت ہلال ریسرچ کونسل نے ممکنہ تاریخ کا اعلان کر دیا

پاکستان میں مذہبی تہواروں اور چاند کی رویت کے حوالے سے مستند معلومات فراہم کرنے…

20 hours ago

This website uses cookies.