حیران کن خبر: جسٹس محسن اختر کیانی جو لاہور ہائیکورٹ جا چکے اور جسٹس بابر ستار جو پشاور ہائیکورٹ جا چکے ان کی فیملیز جہاں اسلام آباد کی عدلیہ کی جانب سے پہلے سے دئیے جانے والے گھروں میں موجود تھیں ان سے ہائیکورٹ کی گاڑی، ڈرائیور، کک، خانسامے، مالی، گارڈ سب اس وقت پیر کو ہی واپس بلا لے لئے گئے تھے جب دونوں ججز دو ہائیکورٹس میں جوائننگ دے رہے تھے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جو گاڑیاں فیملی یا بچوں کو چھوڑنے گئیں ان کو واپسی پر لینے سے پہلے ہی رستے سے ہی ان گاڑیوں کو واپس بلا لیا گیا، جس کی وجہ سے اچانک سب کچھ ہونے سے ہلچل مچ گئی۔ عمومی طور پر ریٹائرڈ ججز کو بھی تھوڑے سے مخصوص عرصے کے لئے سہولیات رکھنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن جسٹس کیانی اور جسٹس بابر تو ابھی دونوں حاضر ججز ہیں۔
دوسری جانب رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ کا موقف ہے کہ یہ سب قانون اور ضابطے کے مطابق ہوا کیونکہ ان ججز کو دوسری ہائیکورٹ جہاں ٹرانسفر ہوئے یہی سب سہولیات ملنی ہیں۔ جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ تمام عملہ اور گاڑی واپس کرکے سندھ ہائیکورٹ میں جوائننگ دے چکی ہیں۔
تحریر: ثاقب بشیر
میڈیا انڈسٹری کے مرحلہ وار خاتمے کا سلسلہ بدستور جاری اب پاکستان کے سب سے…
نواز شریف کی سیاست کی بنیاد عوامی جدوجہد سے زیادہ اقتدار کے درباروں کی دہلیزوں…
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران کا سخت ردِعمل مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے…
حکومتی ترجمان کہتا ہے: عوام ٹیکس نہیں دیتی، اسلئے ہم نے پٹرول پر لیوی لگا…
امریکہ کا آبناۓ ہُرمز کو بلاک کرنا کیا ہے؟ ایک خاندان اپنے گھر میں آرام…
بغضِ عمران کیا ہے؟ سوشل میڈیا پر لوگوں کے سوالات دیکھتا ہوں اور انکے جوابات…
This website uses cookies.