!نو اپریل 2022۔۔ ۔پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن

 اپریل 2022: پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ طویل ترین دن جس نے جمہوریت پر سیاہ دھبہ لگا دیا

پاکستان کی سیاسی تاریخ نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے، لیکن بعض دن ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں بلکہ مستقبل کی سیاست کا رخ بھی متعین کرتے ہیں۔ نو اپریل 2022 کا دن بھی ایک ایسا ہی دن تھا، جسے ملکی تاریخ کے اہم ترین، لیکن متنازع اور طویل ترین پارلیمانی معرکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس دن پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار کسی منتخب وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا۔

لیکن، سچ پوچھیں تو، یہ دن صرف ایک حکومت کے خاتمے کا دن نہیں تھا، بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ پاکستان میں جمہوریت کو دفن کرنے کا دن تھا۔ یہ وہ دن تھا جب عوام کے منتخب کردہ نمائندے کو پارلیمنٹ کے اندر سے ہی ایک ‘جمہوری’ ڈرامے کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا، ایک ایسا عمل جس کی مثال نہیں ملتی۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، اور یہ جمہوریت پر ایک بڑا سیاہ دھبہ ہے۔

پس منظر: سیاسی کشمکش اور عدم اعتماد کی تحریک کا آغاز

نو اپریل کا ڈرامہ یکایک شروع نہیں ہوا، بلکہ یہ ہفتوں پر محیط سیاسی کشمکش کا نکتہ عروج تھا۔ جنوری 2022 کے بعد سے، اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں (پی ڈی ایم اور پی پی پی) نے عمران خان کی حکومت کے خلاف مورچہ بندی سخت کر دی تھی۔ مہنگائی، حکومتی کارکردگی، اور مبینہ “بیڈ گورننس” کو بنیاد بنا کر حکومت پر دباؤ بڑھایا جا رہا تھا۔

ترپ کا پتہ اس وقت شو کیا گیا جب 8 مارچ 2022 کو اپوزیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی۔ اس کے بعد ملک میں سیاسی جوڑ توڑ، وفاداریاں تبدیل کرنے اور “ہارس ٹریڈنگ” کے الزامات کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ حکومت کے اتحادی (ایم کیو ایم، بی اے پی وغیرہ) اور کچھ منحرف اراکین نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اشارہ دیا، جس سے عمران خان کی اکثریت خطرے میں پڑ گئی۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ ایک ‘سازش’ کے تحت کیا گیا، اور یہ جمہوری عمل نہیں تھا۔

 اپریل کا ‘سرپرائز’ اور سپریم کورٹ کی مداخلت

نو اپریل کے واقعات کو سمجھنے کے لیے 3 اپریل کو یاد کرنا ضروری ہے۔ اس دن تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی، لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اسے “غیر ملکی سازش” پر مبنی قرار دے کر آرٹیکل 5 کے تحت مسترد کر دیا۔ اسی دن صدر عارف علوی نے وزیر اعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔

اس اقدام نے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا۔ اپوزیشن نے اسے غیر آئینی قرار دیا اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور پانچ روزہ سماعت کے بعد 7 اپریل 2022 کو ایک تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور اسمبلی کی تحلیل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو بحال کیا اور حکم دیا کہ 9 اپریل کو ہر صورت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ فیصلہ بھی ایک متنازع فیصلہ تھا، کیونکہ اس نے پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت کی تھی۔

نو اپریل: صبح سے رات گئے تک کا سسپنس اور ووٹنگ

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، 9 اپریل بروز ہفتہ صبح 10:30 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا۔ پوری قوم کی نظریں ٹیلی ویژن سکرینوں پر جمی ہوئی تھیں۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ دن کا اختتام کیا ہوگا۔

دن کا آغاز اور حکومتی حکمت عملی:

جوں جوں اجلاس شروع ہوا، یہ واضح ہو گیا کہ حکومت آسانی سے ووٹنگ نہیں ہونے دے گی۔ حکومتی بینچوں کی جانب سے طویل تقاریر کی گئیں، جن میں “غیر ملکی مراسلے” (سائفر) اور “امپورٹڈ حکومت” کا بار بار ذکر کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی اور دیگر وزراء نے طویل تقاریر کیں، جس کا مقصد ووٹنگ کے عمل کو مؤخر کرنا تھا۔ سپیکر اسد قیصر نے بارہا کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم کے پابند ہیں، لیکن کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔

تناؤ میں اضافہ اور عدالتوں کا کھلنا:

جوں جوں دن ڈھلتا گیا، تناؤ بڑھتا گیا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے بار بار سپیکر سے ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا، لیکن سپیکر مختلف حیلے بہانوں سے کام لیتے رہے۔ افطار کا وقت گزرا، نماز تراویح کا وقت آیا، لیکن اجلاس جاری رہا۔ رات 11 بجے کے قریب صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا۔ ایسی اطلاعات بھی آئیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو رات گئے کھول دیا گیا ہے تاکہ اگر ووٹنگ نہ ہو تو قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔

رات کا ڈرامہ اور سپیکر کا استعفیٰ:

بالآخر، رات 11:30 بجے کے بعد، سپیکر اسد قیصر نے اعلان کیا کہ وہ ضمیر کے مطابق عمران خان کے خلاف ووٹنگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور پینل آف چیئرمین کے رکن ایاز صادق کو اجلاس کی صدارت سونپ دی۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک دکھ بھرا لمحہ تھا، کیونکہ سپیکر نے ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف ووٹنگ کرانے سے انکار کر دیا تھا۔

10 اپریل کا آغاز: ووٹنگ اور حکومت کا خاتمہ

جیسے ہی ایاز صادق نے صدارت سنبھالی، تحریک انصاف کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اس کے بعد تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔

رات 12 بج کر کچھ منٹ پر (جو تکنیکی طور پر 10 اپریل شروع ہو چکا تھا)، ایاز صادق نے نتائج کا اعلان کیا۔ تحریک عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ آئے (جتنے درکار تھے اس سے دو زیادہ)۔ اس اعلان کے ساتھ ہی عمران خان کی پونے چار سالہ حکومت کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا اور وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم بن گئے جنہیں آئینی طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک سیاہ رات تھی، جہاں عوام کے منتخب کردہ لیڈر کو ایک ‘جمہوری’ ڈرامے کے ذریعے اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔

شہباز شریف کا خطاب اور مستقبل کے وعدے

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد، نئے وزیر اعظم کے طور پر شہباز شریف نے بطور قائد حزب اختلاف (اپوزیشن لیڈر) ایوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے قوم کو مبارکباد دی اور اپنے خطاب میں یہ الفاظ کہے جو آج بھی زیر بحث ہیں:

“ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے، کسی کو ناحق جیلوں میں نہیں ڈالیں گے، ہم قانون اور آئین کے مطابق چلیں گے اور ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔”

لیکن، ان کے یہ وعدے سچے ثابت نہیں ہوئے۔ اس کے بعد جو حکومت آئی، وہ ایک ‘جعلی حکومت’ تھی، جس نے ڈھٹائی کے ساتھ سیاسی مخالفین پر ظلم اور عوام کا استحصال کرد رہی ہے۔ پاکستانی عوام کو چار سال سے ایسے روندا گیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ 9 اپریل 2022 کا دن واقعی ایک سیاہ دن تھا، اور جو کچھ ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

9 اپریل کے بعد کی سیاست: ایک سیاہ دور کا آغاز

نو اپریل 2022 کے واقعے نے پاکستانی سیاست کا رخ مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد جو سیاسی منظر نامہ ابھرا، اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1. سیاسی پولرائزیشن اور محاذ آرائی:

نو اپریل کے بعد پاکستانی سیاست میں شدید تقسیم (Polarization) دیکھنے کو ملی۔ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مکالمے کا راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا اور سیاسی انتقام، مقدمات، اور گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ محاذ آرائی 9 مئی 2023 کے واقعات پر منتج ہوئی۔

2. اداروں پر تنقید:

اس پورے عمل کے دوران سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بھی شدید بحث ہوئی۔ تحریک انصاف کے حامیوں نے اداروں پر کڑی تنقید کی، جبکہ پی ڈی ایم نے اسے آئین کی بالادستی قرار دیا۔ یہ بحث آج بھی جاری ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اداروں نے اس ‘جمہوری’ ڈرامے میں ایک منفی کردار ادا کیا، اور اس نے جمہوریت پر سیاہ دھبہ لگا دیا۔

نتیجہ

نو اپریل 2022 پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک ایسا اہم موڑ ہے جسے فراموش نہیں کیا जा سکتا۔ یہ دن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا آئینی اور پارلیمانی نظام، تمام تر کمزوریوں کے باوجود، کام کر رہا ہے۔ ایک منتخب وزیر اعظم کو آئینی طریقے سے ہٹانا جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا، لیکن اس کے بعد کی سیاسی عدم استحکام اور محاذ آرائی نے کئی سوالات بھی کھڑے کیے۔

لیکن، سچ پوچھیں تو، یہ دن بہت سے لوگوں کے لیے ایک سیاہ دن ہے، جہاں جمہوریت کو دفن کر دیا گیا اور عوام کے منتخب کردہ لیڈر کو ایک ‘جمہوری’ ڈرامے کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی، اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ نو اپریل کی تاریخ پاکستانی قوم کو ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی کہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہر فرد اور ادارے کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی، ورنہ جمہوریت پر ایسے ہی سیاہ دھبے لگتے رہیں گے۔

شیئر کریں
Scroll to Top