ہم جس قیمت پر ڈیزل بیچ رہے ہیں وہ اب faulty ہو گیا ہے۔ مفتا اسماعیل

“ہم 70 فیصد ڈیزل مقامی طور پر ریفائن کرتے ہیں جبکہ 30 فیصد اِمپورٹ کرتے ہیں۔۔جو ہم مقامی طور پر ریفائن کرتے ہیں اسکی قیمت تقریباً ساڑھے تین سو روپے پڑتی ہے جبکہ اِمپورٹ شدہ ڈیزل کی قیمت 500 روپے پڑتی ہے مگر ہم سب کو 500 روپے کا بیچ رہے ہیں۔۔ مجھ جیسے لوگوں نے گزارش کی ہے کہ ساڑھے تین سو روپے کا کردو اور اس پر ویٹڈ ایوریج کرنے کیلئے 50 روپے کا ٹیکس لگا دو تو صرف فارمولا بدلنے سے ڈیزل کی قیمت 100 روپے کم ہوجائے گی۔۔کسی کو نقصان نہیں ہوگا: مفتاح اسماعیل

وضاحت اور تجزیہسابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا یہ بیان ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، بالخصوص ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار (Pricing Formula) کی بنیادی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔

اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ قیمتیں طے کرنے کا موجودہ میکانزم غیر منطقی ہے جس کا خمیازہ براہ راست عوام بھگت رہے ہیں۔موجودہ طریقہ کار کی خامیاعداد و شمار کے مطابق، کل استعمال ہونے والے ڈیزل کا 70 فیصد حصہ مقامی ریفائنریز پیدا کرتی ہیں، جس کی پیداواری لاگت تقریباً 350 روپے فی لیٹر ہے۔ اس کے برعکس، صرف 30 فیصد ڈیزل بیرونِ ملک سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچتی ہے۔ پالیسی سازوں کی جانب سے خامی یہ ہے کہ 100 فیصد ڈیزل

مہنگی ترین درآمدی قیمت (500 روپے) کی بنیاد پر فروخت کا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی طور پر سستا تیار ہونے والا ڈیزل بھی عوام کو غیر ضروری طور پر مہنگے داموں بیچا جا رہا ہے۔ویٹڈ ایوریج (Weighted Average) کا قابلِ عمل حلاس مسئلے کے حل کے لیے مفتاح اسماعیل نے ‘ویٹڈ ایوریج’ کا طریقہ کار تجویز کیا ہے، جس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں:مقامی پیداوار (350 روپے) اور درآمدی ڈیزل (500 روپے) کی مقدار کے تناسب سے ایک اوسط قیمت نکالی جائے۔اس اوسط قیمت پر حکومت اپنا مقررہ ٹیکس (مثلاً 50 روپے) عائد کرے۔اس سے قیمتوں کا توازن قائم ہو جائے گا اور سستے مقامی ڈیزل کا فائدہ عوام تک پہنچے گا۔اثرات اور نتائجاس مجوزہ فارمولے پر عمل درآمد سے کسی بھی فریق چاہے وہ حکومت ہو یا ریفائنریز—کو مالی نقصان نہیں ہوگا۔ صرف قیمت کے تعین کا طریقہ کار درست کرنے سے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں فوری طور پر 100 روپے تک کی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ چونکہ ٹرانسپورٹ اور زراعت کا پہیہ ڈیزل پر چلتا ہے، اس لیے اس کمی سے ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

شیئر کریں
Scroll to Top