رپورٹ: وفاقی حکومت کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ (فروری 2026)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ڈیٹا کے مطابق، وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مالیاتی اعداد و شمار حکومت کی بڑھتی ہوئی کریڈٹ ضروریات اور بجٹ خسارے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔اعداد و شمار کا خلاصہ مجموعی حجم: مرکزی حکومت کے کل قرضے بڑھ کر 79,882 ارب روپے ہو چکے ہیں۔

سالانہ اضافہ: ایک سال کے عرصے میں قرضوں کے بوجھ میں 6,846 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ماہانہ شرح: صرف فروری 2026 کے دوران وفاقی حکومت نے 555 ارب روپے کا اضافی قرض حاصل کیا۔قرضوں کی نوعیت اور مالیاتی اثراتداخلی و خارجی واجبات: 79.8 ٹریلین روپے کے ان قرضوں میں مقامی بینکوں سے حاصل کردہ فنڈز اور بیرونی مالیاتی اداروں کے واجبات شامل ہیں۔بجٹ خسارہ اور سود کی ادائیگی: قرضوں میں اس تیز رفتار اضافے کی بنیادی وجہ بجٹ خسارے کو پورا کرنا اور پرانے قرضوں پر سود (Debt Servicing) کی ادائیگی ہے۔ترقیاتی اخراجات پر دباؤ: مجموعی قرضوں میں اضافے کے باعث وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ سود کی نذر ہو رہا ہے، جس سے سماجی اور ترقیاتی شعبوں کے لیے دستیاب مالی وسائل محدود ہو رہے ہیں۔

معاشی تناظراسٹیٹ بینک کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ فروری 2026 میں قرضوں کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اگر قرضوں کی یہی رفتار برقرار رہی تو مستقبل کے بجٹ میں مالیاتی گنجائش مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔ماخذ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (رپورٹ برائے فروری 2026)

مزید پڑھیں۔۔

ہم جس قیمت پر ڈیزل بیچ رہے ہیں وہ اب faulty ہو گیا ہے۔ مفتا اسماعیل

شیئر کریں
Scroll to Top