امریکہ نے ہتھیار ڈال دیے؟ ایران کی بڑی فتح اور پاکستان میں تاریخی مذاکرات
تمہید
دنیا اس وقت ایک نئے تاریخی دور سے گزر رہی ہے اور عالمی سیاست میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی عام سفارتی ملاقات سے بہت مختلف ہیں۔ ایک طرف ایران اپنی اس جیت کا جشن منا رہا ہے، تو دوسری طرف امریکہ کسی نہ کسی طرح ان حالات سے باعزت راستہ (فیس سیونگ) نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ آخر ان مذاکرات سے پہلے کیا ہوا، 86 لوگوں پر مشتمل ایرانی وفد پاکستان کیوں آیا، اور اس سب میں پاکستانی عوام اور سیاست کا کیا کردار ہے۔
ایرانی وفد کی پاکستان آمد اور 168 شہادتوں کی یاد
جب ایرانی وفد پاکستان پہنچا، تو انہوں نے بالکل ایک مختلف اور خود مختار انداز اپنایا۔ انہوں نے کسی دوسرے ملک یا پاکستان کے سیکیورٹی جہاز استعمال کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے ہی جہاز میں آئے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسرائیل پر کسی بھی قسم کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بہت ہی جذباتی منظر تب دیکھنے کو ملا جب ایرانی وفد اپنے جہاز کی خالی نشستوں پر 168 معصوم شہید بچوں کی تصویریں رکھ کر لایا۔ اس 86 رکنی وفد میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور عہدیدار شامل تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران ان مذاکرات میں اپنی پوزیشن کو لے کر کتنا مضبوط اور سنجیدہ ہے۔
امریکہ کی مجبوری اور ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا
امریکہ اس وقت مذاکرات کی میز پر بیک فٹ پر نظر آ رہا ہے۔ ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود، امریکہ ایران کی زیادہ تر شرائط ماننے پر مجبور ہو چکا ہے۔ ایران نے اپنا 10 نکاتی ایجنڈا بڑی طاقت سے سامنے رکھا ہے جس میں کھلی چھوٹ کے ساتھ یورینیم کی افزودگی، عالمی پابندیوں کا خاتمہ، اور دنیا بھر میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کو بحال کرنا شامل ہے۔ امریکہ کی مجبوری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 21 سال بعد کوئی امریکی نائب صدر (جے ڈی وینس) خود چل کر پاکستان پہنچا ہے تاکہ ایران کے ساتھ بات چیت کی جا سکے۔
شہباز شریف کو ‘مائنس’ کیوں کیا گیا؟
اس پورے منظر نامے میں ایک دلچسپ اور تھوڑا حیران کن واقعہ یہ ہوا کہ ان اہم ترین عالمی مذاکرات اور استقبالیہ تقریبات سے وزیراعظم شہباز شریف کو بالکل دور رکھا گیا ہے۔ اعلیٰ عسکری قیادت نے خود ہی آگے بڑھ کر ایرانی اور امریکی وفود کا استقبال کیا۔ اس کی اہم وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ کسی بھی قسم کے سیاسی ڈرامے، غیر سنجیدہ حرکت یا سفارتی غلطی سے بچا جا سکے، کیونکہ یہ مذاکرات عالمی سطح پر انتہائی حساس نوعیت کے ہیں۔
پاکستان کے معاشی حالات اور پیٹرول کی قیمتیں
جہاں ایک طرف عالمی سطح پر طاقتوں کا توازن بدل رہا ہے، وہاں پاکستان کے عوام اپنے ہی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایک طرف عرب امارات نے پاکستان سے اپنے ساڑھے تین ارب ڈالرز واپس مانگ لیے ہیں جس سے معیشت پر مزید دباؤ آیا ہے۔ دوسری طرف، عوام کو ریلیف دینے کے نام پر حکومت کی طرف سے صرف دکھاوا کیا جا رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں گرنے اور ایران سے سستا تیل آنے کے باوجود، حالیہ دنوں میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں صرف 12 روپے کی معمولی کمی کی ہے۔ عوام اس چھوٹے سے ریلیف سے بالکل مطمئن نہیں ہیں کیونکہ پچھلے دنوں میں قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بہت زیادہ تھا۔
حرفِ آخر
یہ مذاکرات اس بات کا اشارہ ہیں کہ دنیا کا عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں بھی ان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور ایک نیا بلاک بن رہا ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ مستقل مزاجی اور مضبوط ارادے سے بڑی سے بڑی طاقت کو بھی مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ان حالات کا حتمی نتیجہ کیا نکلتا ہے اور اس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر کیا مرتب ہوتے ہیں۔
یوٹیوب پر مکمل وی لاگ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں👇🏻
مزید اہم خبریں:۔
»ایران کے مزاکرات کے انچارج سپیکر محمد غالیباف ایک پروفیشنل پائلٹ بھی ہیں
»ایرانی وفد اپنے ساتھ مناب سکول کے بچوں کی 168 تصویریں بھی لے کر آئے



