ایران امریکہ مذاکرات کا انعقاد پاکستان میں ، مگر ان مذاکرات سے متعلق تازہ ترین احوال جاننے کیلئے پاکستانی میڈیا کی بجائے سی این این، بی بی سی، الجزیرہ جیسے عالمی خبر رساں اداروں کا سہارا لینا پڑا ۔۔ صحافیوں کا ردعمل۔۔ “پوری دنیا کی نظریں پاکستان میڈیا پر، لیکن پاکستانی میڈیا کی نظریں عالمی میڈیا پر”، “تمغے والے وٹس ایپ صحافت کرتے ہیں کم ازکم انٹرنیشنل میڈیا ہی پڑھتے تو کچھ نہ کچھ بتانے کے قابل ہوتے”، “کیا پاکستانی صحافی صرف چائے، کافی،کھانا، وائی فائی کی خبروں تک رہ گئے ہیں؟”، “جو خبریں پاکستانی چینلز کو بریک کرنا چاہئیں تھی، وہ الجزیرہ، سی این این، رائٹرز، بی بی سی کررہے ہیں”
مقامی صحافت کے معیار پر اٹھتے سوالات
کسی بھی ملک میں ہونے والے بین الاقوامی سطح کے مذاکرات اس ملک کے میڈیا کے لیے ایک سنہری موقع ہوتے ہیں کہ وہ دنیا بھر کو براہ راست اور مستند معلومات فراہم کرے۔ تاہم، اس اہم ترین سفارتی پیش رفت کے دوران مقامی خبر رساں اداروں کی پسپائی اور عالمی اداروں پر انحصار نے صحافتی صلاحیتوں اور ترجیحات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خبروں کی کھوج اور تجزیاتی رپورٹنگ کی جگہ اب محض سنی سنائی باتوں اور سطحی معلومات نے لے لی ہے۔
عالمی میڈیا کی سبقت اور اسباب
الجزیرہ، سی این این اور بی بی سی جیسے اداروں کی جانب سے مسلسل بریکنگ نیوز اور گراؤنڈ رپورٹس نے یہ ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی صحافت میں پیشہ ورانہ مہارت اور مستعدی کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ مقامی چینلز کا اس موقع پر خاموش رہنا یا محض بین الاقوامی خبروں کا ترجمہ کر کے نشر کرنا، دراصل ادارہ جاتی کمزوریوں اور تحقیقاتی صحافت کے فقدان کا واضح نتیجہ ہے۔
پیشہ ورانہ تربیت اور اصلاحات کی ضرورت
یہ واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ خبر رساں اداروں کو اپنے روایتی طریقوں سے باہر نکل کر عالمی معیار کی صحافت اپنانے کی ضرورت ہے۔ سنسنی خیزی اور غیر ضروری موضوعات سے ہٹ کر سفارتی امور، تحقیق اور حقائق پر مبنی کوریج پر توجہ مرکوز کرنا ناگزیر ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے اہم مواقع پر غیر ملکی اداروں کی طرف دیکھنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔



